اسلام آباد: سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران وکیل سلمان اکرم راجا اور بینچ کے معزز ججز کے درمیان دلچسپ مکالمہ دیکھنے کو ملا۔
سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اصول واضح ہیں، اور اگر کوئی فیصلہ خامیوں سے بھرپور ہو بھی، تو جب تک وہ ناانصافی پر مبنی نہ ہو، اس پر نظرثانی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا، "کل کی سماعت میں ایک کارٹون کا ذکر ہوا۔ وہ کارٹون تو نہیں ملا، لیکن ایک اور کارٹون دیکھا، جس میں ایک شخص کو باندھ کر مارا جا رہا ہے اور ریفری بھی اُسی کو مار رہا ہے۔"جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’وہ کارٹون 2018 والا تھا۔‘‘جسٹس صلاح الدین پنہور نے راجا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا، ’’لگتا ہے آپ کے اپنے ہی آپ کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔‘‘اسی دوران جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا، ’’کیا پی ٹی آئی والے اپنی مرضی سے فیصلے کرتے رہے یا سب کچھ اجلاسوں میں طے پاتا تھا؟‘‘ سلمان اکرم راجا نے جواب میں کہا کہ اُس وقت افراتفری کا ماحول تھا۔
دوسری جانب، جسٹس امین الدین خان نے سینیئر وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ سینیئر وکیل ہیں، جذباتی باتیں نہ کریں، نوجوان وکلا آپ کو دیکھتے ہیں۔‘‘جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، لیکن فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا۔جسٹس امین الدین نے مزید ریمارکس دیے کہ ’’آج کل عدالت کے اندر کیے گئے سوالات کو باہر کچھ اور رنگ دیا جاتا ہے، لیکن ہم سوال صرف وضاحت کے لیے کرتے ہیں۔‘‘یہ کیس نہ صرف آئینی اہمیت کا حامل ہے بلکہ سیاسی و قانونی منظرنامے پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ سماعت جاری ہے۔