یورپی یونین اور ناروے کے درمیان جاری مذاکرات کے مطابق، ناروے نے روس کے منجمد اثاثوں کو گروی رکھ کر یوکرین کو قرضہ فراہم کرنے کی تجویز کو سختی سے رد کردیا ہے۔
ناروے کے وزیر خزانہ جینز اسٹولٹن برگ نے وضاحت کی ہے کہ ناروے یورپی یونین کی اس تجویز میں شامل نہیں ہوگا، جس کے تحت روس کے اثاثوں کو گروی رکھ کر یوکرین کو قرضہ دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ناروے کا اپنی 2 ٹریلین ڈالر کے قومی فنڈ سے یورپی یونین کے 160 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی ضمانت دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیونکہ اس کا قانونی اور مالی خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ناروے کی شمولیت کا انحصار یورپی یونین کی حتمی منظوری پر ہوگا اور فی الحال ناروے اس حوالے سے کسی قسم کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔یورپی کمیشن کا منصوبہ ہے کہ بیلجیئم میں موجود روسی اثاثوں کو گروی رکھ کر یوکرین کو قرض فراہم کیا جائے۔ اس اسکیم کے تحت، یہ قرض صرف اس صورت میں واپس کیا جائے گا جب جنگ کے بعد روس سے تاوان کی رقم حاصل ہو، جو کہ ایک غیر یقینی اور مشکوک معاملہ ہے۔ بیلجیئم نے بھی روسی اثاثوں کی قانونی ضمانت دینے سے انکار کیا ہے، جب تک کہ تمام یورپی یونین کے ممالک اس کے مالی اور قانونی خطرات کو مشترکہ طور پر قبول نہ کریں۔
اس دوران، یوکرین میں ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں صدر ولادیمیر زیلنسکی کے قریبی ساتھی تیمور مینڈچ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کم از کم 100 ملین ڈالر کے کک بیکس وصول کیے ہیں۔ یہ اسکینڈل کرپشن کے حوالے سے ایک نئے بحران کی نشاندہی کرتا ہے، جو ملک کی سیاسی اور معاشی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین کا یہ قرض پروگرام منظور نہیں ہوا، تو یوکرین کی حکومت کے پاس فروری کے بعد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فنڈز ختم ہونے کا خطرہ ہے، جس سے ملک کے اقتصادی حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال میں، یوکرین کو مالی بحران سے نمٹنے کے لیے دیگر متبادل اقدامات کی ضرورت ہوگی۔