روسی وزیر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات میں تمام زیر التوا مسائل پر بات ہوگی۔
اس دوران یورپی ممالک کی درخواست کردہ مشاورت کو غیر اہم قرار دیا گیا ہے۔
روسی موقف کی اہم نکات:
یورپی یونین اور روسی اثاثے:
ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے روس کے اثاثے استعمال کر کے یوکرین کو امداد دینا معاشی جارحیت کے مترادف ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ روس کے اثاثوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کا سخت اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
یوکرین جنگ پر موقف:
ترجمان کے مطابق یوکرین جنگ کے حوالے سے روس کے موقف میں گزشتہ سال سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس اپنی سابقہ پالیسیوں اور مطالبات پر قائم ہے۔
یوکرین کے علاقوں سے انخلا کا مطالبہ:
خبر ایجنسی کے مطابق روس نے یوکرین کے چار علاقوں سے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے، جو کہ جنگ کے دوران روسی حکمت عملی اور علاقائی دعووں کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
بین الاقوامی تناظر:
روس کی جانب سے یورپی ممالک اور امریکہ کے کردار کو غیر اہم یا مداخلتی قرار دینا، یوکرین کے تنازع میں روس کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔روس کی یہ بیان بازی ممکنہ طور پر صدر پیوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات کے ایجنڈے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جس میں سیکورٹی، اقتصادی پابندیاں اور علاقائی تنازعات زیر بحث آئیں گے۔