وفاقی کابینہ اجلاس تینوں سروسز چیفس اور عدلیہ سے متعلق قوانین میں ترمیم کی منظوری

ترامیم کے تحت چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ موجودہ چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جائے گا‘ قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی  شامل 
وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ  ایکٹ, 202 کے مسودے کی بھی منظوری دے دی‘ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبرکو ہونے والی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی
اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیاگیا۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔وفاقی کابینہ نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کا مقصد افواج پاکستان سے متعلق قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کی بنیاد پر ضروری قانون سازی  کی گئی ہیں جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی میعاد بھی شامل ہے۔ان ترامیم کے تحت چیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ موجودہ چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جائے گا۔اسی طرح سے ان قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی  شامل کئے گئے ہیں۔یہ اسکیم اور متعلقہ قوانین میں ترمیم ہمعصر اور جدید جنگی تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجویز کی گئی ہیں۔وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ, 2025 کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر, 2025 کو ہونے والی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔