دہشتگردوں کو بہت سخت قیمت ادا کرنا ہو گی شہبازشریف
ہر وزارت کی کارکردگی ہر دو ماہ بعد جانچی جائے گی، اچھے نتائج پر شاباش ،خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے، کسی تادیبی کارروائی سے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا‘کسی کو جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
صرف کارکردگی اور قوم کی خدمت ہی ترجیح ہے، جو معیار پر پورا اترے گا وہ ہمارے سروں کا تاج ہو گا اور جو معیار پر پورا نہیں اترا اسے احساس دلائیں گے:وزیراعظم کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب
قلات(آئی این پی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع قلات میں کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور شہدا کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ معصوم اور نہتے شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے دہشتگردوں کو بہت سخت قیمت ادا کرنی پڑے گی۔دریں اثناء وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلا س ہوا‘فاقی کابینہ نے ای او بی آئی کے ادارہ کے پینشن میں 15فیصد اضافہ ،انسداد کینسر، دل کے امراض اور زندگی بچانے والی ادویات کی درآمد پر پانچ سال کے مزید استثنٰی اور سی کیرج شپنگ ڈاکیومینٹس بل، 2025 کے مسودے کے حوالے سے ضروری قانونی کاروائی شروع کرنے کی منظوری دے دی‘پنشن میں اضافہ یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کی مالی ذمہ داری ای او بی آئی اپنے وسائل سے پوری کرے گا۔وزیرِاعظم نے اجلاس میں ای او بی آئی کی مجموعی اصلاح کیلئے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی، تاکہ مستقبل میں پنشنرز کو مزید سہولیات میسر آسکیں اور ادارے کی استعدادِ کار بہتر بنائی جا سکے‘کابینہ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا معاشی ترقی کے لیے حکومت تمام تر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، اب ہر وزارت کی کارکردگی ہر دو ماہ بعد باقاعدگی سے جانچی جائے گی، جہاں اچھی کارکردگی پر وزارتوں کو شاباش دی جائے گی، وہیں کوتاہی یا غفلت پر تادیبی کارروائی سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا، کسی کو جھوٹا تاثر قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صرف حقیقی کارکردگی ہی معیار ہو گی۔ وزیر اعظم نے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں مجالس اور جلوسوں کے پرامن انعقاد پر وزرائے اعلی، وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی اتحاد، وحدت اور بھائی چارے کا مظہر ہے ۔ محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کا پر امن ماحول میں انعقاد وفاقی وزیر داخلہ،صوبائی اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کے بہترین انتظامات سے ممکن ہوا، قومی وحدت، اتحاد اور بھائی چارے سے ہی امید افزا صورتحال بنی۔وزیراعظم نے حالیہ بارشوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے این ڈی ایم اے سے تفصیلی بریفنگ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے اب ایک جاندار ادارہ بن چکا ہے لیکن بدقسمتی سے بارشوں سے پورے پاکستان میں انسانی جانیں ضائع ہو گئیں، بالخصوص سوات میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، ہمیں اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے اور آئندہ کیلئے موثر اقدامات کے لیے پوری تیاری کرنی چاہیے۔ وزیراعظم نے معیشت سے متعلق خوش آئند پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے حکومت تمام تر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہماری کابینہ کو ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا ہے، اب ہر 2 ماہ بعد ہر وزارت کی کارکردگی کو جانچیں گے، اچھے نتائج پر شاباش دیں گے اور خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے اور اس کے لیے میں کسی تادیبی کارروائی سے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔انہوں نے متنبہ کیا کہ دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کو جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، صرف کارکردگی اور قوم کی خدمت ہی ترجیح ہے، جو معیار پر پورا اترے گا وہ ہمارے سروں کا تاج ہو گا اور جو معیار پر پورا نہیں اترا اسے احساس دلائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ احسن اقبال پر سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بڑے سوالات اٹھ رہے تھے لیکن انہوں نے حیرانی میں مبتلا کیا ہے کہ سالانہ ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 10 کھرب روپے سے بڑھ گیا ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔