نسلِ نو کی رگوں میں اترتا زہر

خالد حسین رضا میو
کسی بھی قوم کے مستقبل کا دار و مدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ آج ہماری یہی نسل تعلیمی اداروں میں خاموشی سے پھیلتے ایک زہریلے عفریت کی زد میں ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اب محض ایک سماجی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک قومی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جن درسگاہوں کو علم، تربیت اور کردار سازی کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہاں آج نشہ آور اشیاء￿  کی آسان دستیابی ایک کھلا راز بن چکی ہے۔سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں ہر دس میں سے تین طلبہ کسی نہ کسی مرحلے پر نشے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں پیش کی جانے والی بریفنگز نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسلام آباد کے نجی اسکولوں سے لے کر قائد اعظم یونیورسٹی، لاہور کی معروف جامعات اور کراچی کے تعلیمی حلقوں تک، منشیات فروش نیٹ ورکس کی موجودگی کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر علم کے یہ مراکز محفوظ نہیں رہے تو پھر ہماری نسل کہاں محفوظ رہے گی؟
اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ منشیات کی بدلتی ہوئی شکل ہے۔ ماضی میں نشے کو سگریٹ یا چرس تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر آج ’’آئس‘‘ اور ’’کرسٹل میتھ‘‘ جیسے کیمیائی نشے تعلیمی اداروں میں تباہی مچا رہے ہیں۔ امتحانات میں بہتر کارکردگی، راتوں کو جاگنے اور ذہنی دباؤ سے نکلنے کے نام پر نوجوانوں کو موت کا یہ سودا تھما دیا جاتا ہے۔ چند ہی دنوں میں یہ نشہ انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگے نشے بعض نجی اداروں میں اسٹیٹس سمبل بن چکے ہیں، جہاں پارٹی کلچر تعلیم پر غالب آ چکا ہے۔اداروں کی انتظامیہ اور سیکیورٹی نظام کی ناکامی بھی اس زہر کو پھیلنے کا موقع دے رہی ہے۔ کئی بار بدنامی کے خوف سے واقعات کو دبا دیا جاتا ہے۔ ہاسٹل وارڈنز اور سیکیورٹی عملے کی غفلت یا ملی بھگت بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ جب محافظ ہی لاپرواہ ہو جائیں تو نوجوان کہاں جائیں؟ہم عمر ساتھیوں کا دباؤ نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیلنے کا ایک مؤثر ہتھیار بن چکا ہے۔ نئے طلبہ کو قبولیت کے نام پر سگریٹ یا نشہ پیش کیا جاتا ہے، اور انکار کرنے پر تضحیک کی جاتی ہے۔ یہی لمحہ اکثر ایک روشن مستقبل کو تاریکی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔خاندانی نظام کی کمزوری اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ والدین کی مصروف زندگی، بچوں کے لیے وقت کی کمی اور محض مالی سہولتوں کو ذمہ داری سمجھ لینا ایک خطرناک سوچ ہے۔ آنکھوں کی سرخی، رویوں میں تبدیلی، تنہائی پسندی اور غیر معمولی مطالبات اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ جب گھر میں بات چیت ختم ہو جائے تو نوجوان باہر غلط سہاروں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈارک ویب نے منشیات تک رسائی کو مزید آسان بنا دیا ہے۔
اس سنگین مسئلے کا حل محض بیانات میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ ریاست کو سخت اور مؤثر پالیسی اپنانا ہوگی۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اور 
پولیس کو تعلیمی اداروں کے گرد مضبوط نگرانی کرنا ہوگی۔ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ، ڈرگ ٹیسٹنگ اور ماہرینِ نفسیات کی موجودگی ناگزیر ہے۔ کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نوجوان اپنی توانائی صحیح سمت میں استعمال کر سکیں۔سب سے بڑھ کر والدین کو اپنی ذمہ داری پہچاننا ہوگی۔ بچوں سے مکالمہ، اعتماد اور قربت ہی وہ دیوار ہے جو اس زہر کو اندر آنے سے روک سکتی ہے۔ نشے کے عادی فرد کو مجرم نہیں بلکہ مریض سمجھ کر اس کی بحالی میں مدد دینا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔آخر میں سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو علم کا تحفہ دیں گے یا خاموشی سے انہیں زہر کے حوالے کر دیں گے؟ فیصلہ آج کرنا ہوگا، کیونکہ کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔