پولیس ملزم کو تھانہ کاہنہ لے جارہی تھی ،نامعلوم ملزمان نے چھڑانے کے لیے فائرنگ کردی
اجرتی قاتل اعظم خان قتل، اقدام قتل اور ناجائز اسلحہ جیسی خطرناک وارداتوں میں ریکارڈ یافتہ تھا
لاہور(کرائم رپورٹر)آرگنائزڈ کرائم یونٹ ماڈل ٹان اور ڈاکوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران پنجاب میں دہشت کی علامت سمجھا جانے والا انتہائی خطرناک شوٹر و اجرتی قاتل اعظم خان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ڈی آئی جی آرگنائز کرائم یونٹ لاہور عمران کشور کی ہدایت پر ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ ماڈل ٹائون چودھری فیصل شریف کی نگرانی میں انسپکٹر عمران یوسف اور ان کی ٹیم زیر حراست ملزم کو ساتھیوں کی گرفتاری اور برآمدگی آلہ قتل کے لیے علاقہ تھانہ کاہنہ لے جا رہی تھی کہ نامعلوم ملزمان نے اپنے ساتھی کو چھڑوانے کے لیے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ملزم کے ساتھیوں کی فائرنگ سے شوٹر اعظم خان شدید زخمی ہوگیا جس کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا جو کہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ ماڈل ٹائون کے مطابق ہلاک ملزم قتل، اقدام قتل اور ناجائز اسلحہ جیسی خطرناک وارداتوں میں ریکارڈ یافتہ تھا۔2023میں علاقہ تھانہ لیاقت آباد لاہور میں ملزم نے شہری طلحہ عرفان اور عمر بٹ کو سر میں فائر مار کر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔14سال قبل کوٹ لکھپت کے علاقے میں شہری فیاض حسین کو اندھا دھند فائرنگ کرکے ناحق قتل کر دیا تھا۔ڈی ایس پی چودھری فیصل شریف نے بتایا کہ شوٹر معمولی پیسوں کے عوض شہریوں کو زخمی اور قتل کر دیتا تھا، ہلاک ملزم قتل کی وارداتیں کر کے خیبر پختونخوا فرار ہوگیا تھا، ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ ہلاک ہونے والے ملزم کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جو سرچ آپریشن کر رہی ہے۔