آئندہ بجٹ میں کاروباری ماحول بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی:احسن اقبال

آئندہ بجٹ میں کاروباری ماحول بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی:احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار اور کاروباری طبقے کے لیے ممکنہ ریلیف کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ٹیکسوں کی شرح کم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نئے بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو اس بات کا مکمل احساس ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اس وقت زیادہ ٹیکس بوجھ برداشت کر رہا ہے، اسی لیے آئی ایم ایف کے ساتھ بھی ریلیف کے لیے بات چیت جاری ہے۔وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ ٹیکسوں کی بلند شرح کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، اس لیے آئندہ بجٹ میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔احسن اقبال کے مطابق برآمدی شعبے کو بھی بجٹ میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ برآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور مراعات دی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ایکسپورٹس کے فروغ اور زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

ترقیاتی منصوبوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مختلف وزارتوں نے جاری منصوبوں کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے کے فنڈز طلب کیے ہیں، تاہم آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا حجم تقریباً 1125 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔ان کے مطابق محدود وسائل کے باعث حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات ازسرِ نو طے کرنا ہوں گی، جبکہ آئی ایم ایف یہ بھی چاہتا ہے کہ صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو وفاق کے بجائے صوبے خود فنڈ کریں۔احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ حکومت کے مجوزہ اقدامات سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی معیشت میں استحکام اور ترقی کی رفتار بھی بہتر ہوگی۔