وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالات معمول پر آ گئے ہیں۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر مظفرآباد جانے والی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جس کے بعد جاری ہڑتال ختم کر دی گئی ہے۔مذاکرات کے بعد اسلام آباد پہنچ کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ مذاکرات میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے مفاد کو مدنظر رکھا گیا اور یہ آزاد کشمیر کے عوام اور جمہوریت کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود مسائل کو حل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، انتظامی ڈھانچے میں کمی اور کوتاہی کو دور کیا جائے گا، اور وفاقی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرے گی۔
پی پی پی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کشیدگی پر افسوس ہے، لیکن آج کشمیری عوام نے سکون کا سانس لیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے۔ قمر زمان کائرہ نے کشمیری عوام کے ساتھ بھائی چارے اور پاکستان کی شہ رگ ہونے کے ناطے ان کے مفاد کی اہمیت بھی اجاگر کی۔امیر مقام نے کہا کہ بھارت کی کشمیر میں خونریزی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی، اور مذاکرات کی کامیابی بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وزیر اعظم نے آزاد کشمیر کے معاملے پر فوری کمیٹی تشکیل دی، اور محبت و مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جوائنٹ کمیٹی کے کامیاب مذاکرات سے امن بحال ہوا ہے اور عوامی مطالبات کے حل کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں مذاکرات کی کامیابی کا اعلان مظفرآباد میں ہونے والی مشترکہ نیوز کانفرنس میں کیا گیا، جس میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان رانا ثناء اللہ، امیر مقام، راجہ پرویز اشرف اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شریک تھے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بات چیت کے ذریعے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے اور معاملہ مکمل طور پر طے پا گیا ہے۔