وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیشنل ریسکیو چیلنج کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے دوران 1122 کے جوان دن رات فرائض انجام دیتے رہے اور قوم کی بیٹیاں بھی کسی طور پیچھے نہیں رہیں۔
انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آئندہ سال ٹیموں میں خواتین کی نمائندگی 30 تا 40 فیصد تک پہنچائی جائے۔احسن اقبال نے کہا کہ سیلاب کے دوران ریسکیو 1122 کے جوانوں نے کشتیوں میں لوگوں کو ریسکیو کیا اور خواتین اہلکاروں نے بھی اپنی صلاحیتیں بھرپور طریقے سے دکھائیں۔انہوں نے ریسکیو 1122 کو امید کی کرن قرار دیا اور کہا کہ ادارے کی فنی و فنکشنل خودمختاری نے اسے ترقی کرنے کا موقع دیا۔وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ ریسکیو کے فارمولے میں ہر فرد، چاہے وہ سیکیورٹی گارڈ ہو یا ڈرائیور، اپنے آپ کو مشن کا حصہ سمجھتا ہے، جس کی وجہ سے ادارہ ہر مشکل صورتحال میں مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔احسن اقبال نے ذاتی تجربے بھی شیئر کیے کہ 2008ء میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انہیں ریسکیو 1122 نے اسپتال پہنچایا۔ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کے ادارے نے سیلاب متاثرین کے لیے زندگیوں کو بچانے اور امید قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔