منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی سے متعلق ابتدائی تفتیش میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہیں پولیس ذرائع تفتیش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران ملزمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طور پر ایک پولیس افسر کی جانب سے اس کے بھائی کو متعدد بار حراست میں لے کر رشوت لے کر چھوڑا جاتا رہا۔ تاہم یہ دعوے تاحال آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی نے کراچی میں منشیات کی ماہانہ فروخت کا حجم 2 کروڑ روپے سے زائد بتایا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان دعوؤں اور مالی لین دین کی تفصیلات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے زیر استعمال دو موبائل سمز ایسے ناموں پر رجسٹرڈ پائی گئی ہیں جن کی مزید جانچ جاری ہے۔ اسی طرح منشیات کی ترسیل کے لیے بین الصوبائی بس سروسز کے استعمال اور مالی لین دین کے لیے مختلف افراد کے ناموں پر بینک اکاؤنٹس کھولنے سے متعلق بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر رقم کی منتقلی کے لیے موبائل ایپس اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کیا جاتا رہا، تاہم اس کی مکمل تصدیق جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے بیانات اور دعوؤں کو کیس کا حصہ بنا کر مختلف زاویوں سے جانچ کیا جا رہا ہے، جبکہ نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات حساس نوعیت کی ہیں اور تمام پہلوؤں کو قانونی طریقہ کار کے مطابق پرکھا جا رہا ہے۔