اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بھارت اور مودی حکومت پر شدید تنقید کی اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو عالمی سطح پر چیلنج کرنے کا مطالبہ کیا۔
“مودی کا بھارت اقلیت دشمن ہے”
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بھارت دو رخ رکھتا ہے: ایک مودی کا بھارت جو اقلیتوں کے قتل عام پر خوش ہے، اور دوسرا وہ بھارت جو خود کو سیکولر کہتا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم تشدد کی سرپرستی کر رہی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ عالمی عدالت میں لے جانے کا مطالبہ
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نو سالہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔ مودی کی حکومت کی جانب سے اس معاہدے کی معطلی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے بلکہ یہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پانی کوئی نہیں روک سکتا، اور حکومت کو چاہیے کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کو فوری طور پر عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا جائے۔
“یہ غزہ نہیں، اگر جنگ ہوئی تو بہت آگے جائے گی”
انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ غزہ جیسی محدود جنگ نہیں ہو گی، بلکہ اس کے سنگین عالمی اثرات ہوں گے۔
بھارت کی منافقت بے نقاب
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بھارت نے نہ تو جعفر ایکسپریس حملے کی مذمت کی اور نہ ہی کسی دہشتگردی کے واقعے پر سنجیدگی دکھائی، جبکہ پاکستان نے پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کی واضح الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے، نہ کہ اس کا سرپرست، اور بھارت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔