پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں دو افراد کے قتل کے مقدمات میں درج کراس ورژن کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے تفتیش کے دوران اہم ڈیجیٹل شواہد اور تشدد سے متعلق ویڈیوز حاصل کر لی ہیں۔
تھانہ دھمیال میں درج مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے مطابق مقتول زین شاہ پر مبینہ طور پر کیے گئے انسانیت سوز تشدد کی ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل مواد برآمد کیا گیا ہے، جو کیس میں اہم ثبوت کے طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق زین شاہ کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے، جو کراس ورژن کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا، میں مزید سنگین دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔ ان میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتل)، دفعہ 506 (دھمکیاں دینا)، دفعہ 297 (لاش کی بے حرمتی)، دفعہ 364 (اغوا) اور بلوہ سے متعلق دفعات شامل ہیں۔مجموعی طور پر 17 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 8 مئی کو پیش آیا جب لین دین کے تنازع پر پہلے ایک شخص سراج خان کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ بعد ازاں مبینہ طور پر جوابی کارروائی میں زین شاہ کو بھی اسی روز تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زین شاہ کو مبینہ طور پر گلے میں پھندا ڈال کر گھسیٹا گیا اور اس کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات بھی پائے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس کی ٹانگ پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں مقتولین کی پوسٹ مارٹم رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئیں، جن کا کیس کی حتمی تفتیش میں اہم کردار ہوگا۔ماہرین کے مطابق یہ کیس انتہائی پیچیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے اور ڈیجیٹل شواہد کی دستیابی سے تفتیش میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔