لوچستان کے ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں مرد و خاتون کے اندوہناک قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، پولیس نے مقتولہ بانو بی بی کی والدہ کو گرفتار کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کوئٹہ پولیس نے خاتون کی والدہ کو حراست میں لیا اور آج انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔
’بیٹی کو جرگے کے فیصلے پر قتل کیا گیا‘: والدہ کا متنازع بیان
یاد رہے کہ مقتولہ بانو بی بی کی والدہ کا ایک ویڈیو بیان گزشتہ روز منظر عام پر آیا تھا، جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی بیٹی کو بلوچی رسم و رواج اور جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔ خاتون نے کہا:"ہم نے بیٹی کو بلوچی جرگے کے فیصلے پر قتل کیا۔ سردار شیر باز ساتکزئی کے ساتھ کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں ہوا بلکہ اجتماعی طور پر قبائلی رسم و رواج کے مطابق فیصلہ لیا گیا۔"انہوں نے عدالت اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
مرکزی ملزم سردار شیر باز ساتکزئی کا جسمانی ریمانڈ
واقعے میں نامزد سردار شیر باز ساتکزئی کو گزشتہ روز مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ مقدمے میں دیگر ملزمان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
بانو بی بی کا بھائی تاحال گرفتار نہ ہو سکا
ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد مقتولہ کا بھائی تاحال فرار ہے۔ پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
پسِ منظر: سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے ہلچل مچا دی
یہ واقعہ عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں پیش آیا تھا، جہاں ایک مرد اور خاتون کو سرعام فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو تین روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں سفاکی سے قتل کیے گئے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔
وائرل ویڈیو کے بعد بلوچستان میں عوامی ردعمل بڑھ گیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو کارروائی کی ہدایت کی۔
انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج
پولیس نے واقعے کا مقدمہ انسداد دہشتگردی ایکٹ، قتل اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی حساسیت اور قبائلی اثرات کے باعث تحقیقات انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔