راولپنڈی کے علاقے جاتلی میں 17 سالہ لڑکی کے قتل کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے 2 مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد گرفتار ملزمان کی تعداد 3 ہو گئی ہے۔
گرفتار ملزمان اور الزامات
رپورٹ کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں مقتولہ کا چچا وسیم بھی شامل ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی شناخت شیر عباس اور عاقب کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں ملزمان پر لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کرنے کا الزام ہے۔
قتل کا پس منظر
پولیس رپورٹ کے مطابق، مبینہ طور پر لڑکی کو اغوا کیا گیا تھا، تاہم اس کے اہل خانہ نے اسے تلاش کرکے واپس گھر لے آئے۔ بعد ازاں مقتولہ کے چچا نے اسے قتل کر کے لاش دفنا دی۔ لڑکی کی پراسرار ہلاکت کی اطلاع پر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) سید خالد ہمدانی نے واقعے کا نوٹس لیا اور فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا۔
پولیس کی کارروائی
راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق، ایس پی صدر کی زیر نگرانی مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے قبر کشائی اور مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کرایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مکمل تفتیش میرٹ پر کی جائے گی اور ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سی پی او راولپنڈی کا مؤقف
سی پی او سید خالد ہمدانی نے کہا کہ پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ راولپنڈی پولیس مظلوم کی وارث ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ افسوسناک واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہر قانونی تقاضہ پورا کیا جائے گا۔پولیس مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہے، اور امکان ہے کہ کیس میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔