خواتین پر تشدد کے خلاف دعوے کھوکھلے ثابت، پولیس نے لاکھوں درخواستیں نظرانداز کر دیں

خواتین پر تشدد کے خلاف دعوے کھوکھلے ثابت، پولیس نے لاکھوں درخواستیں نظرانداز کر دیں

پنجاب میں خواتین پر تشدد کے لاکھوں کیسز پولیس نے دبا دیے، 3 لاکھ سے زائد درخواستیں کارروائی کے بغیر بند

ویب ڈیسک: خواتین پر جنسی و جسمانی تشدد کی روک تھام کے دعوے پولیس کی فائلوں میں دفن ہو گئے۔ پنجاب بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین کی جانب سے رپورٹ کیے گئے لاکھوں کیسز کو کارروائی کے بغیر ہی رفع دفع کر دیا گیا۔

چونکا دینے والے اعداد و شمار:
4 لاکھ 2082 خواتین نے پنجاب بھر میں مختلف نوعیت کے تشدد، ہراسانی اور جرائم سے متعلق پولیس سے رجوع کیا۔ان میں سے صرف 49 ہزار 83 کیسز کا باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔جبکہ 3 لاکھ 53 ہزار سے زائد شکایات پر نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ ہی عملی کارروائی کی گئی۔
سنگین نوعیت کے جرائم بھی نظرانداز:
ذرائع کے مطابق، پولیس نے اپنی "رفع دفع پالیسی" کے تحت درج ذیل سنگین نوعیت کے جرائم کو بھی غیر سنجیدگی سے لیا:

تیزاب گردی
ریپ
اغوا
جسمانی تشدد
یہ وہ جرائم ہیں جن کے خلاف سخت کارروائی کی بجائے محض کاغذی کارروائی پر اکتفا کیا گیا۔

سب سے زیادہ شکایات کس جرم کی تھیں؟
پولیس ریکارڈ کے مطابق، خواتین پر جسمانی تشدد کی شکایات سب سے زیادہ موصول ہوئیں، تاہم ان میں سے اکثریت کو نظرانداز کر دیا گیا یا وقتی طور پر حل شدہ قرار دے دیا گیا۔

پس منظر:
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے، اور متاثرہ خواتین کو فوری انصاف فراہم کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا ردعمل:
انسانی حقوق کے کارکنان اور ماہرین قانون نے اس رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:"اس طرزعمل سے نہ صرف متاثرہ خواتین کا اعتماد مجروح ہوا ہے بلکہ معاشرے میں مجرموں کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔"