کھوکھلے مذاکرات اور دعوؤں سے کچھ نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر کا بلاول بھٹو کی دعوت پر جواب

کھوکھلے مذاکرات اور دعوؤں سے کچھ نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر کا بلاول بھٹو کی دعوت پر جواب

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کھوکھلے مذاکرات اور دعوؤں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران ان کی حکومت ختم ہوگئی، جبکہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ مذاکراتی کمیٹی کو بات چیت چھوڑنے کے لیے کس نے کہا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مذاکرات کے لیے بیٹھی تھی، لیکن یہ واضح ہونا چاہیے کہ اسے مذاکراتی عمل سے الگ ہونے کا فیصلہ کس نے کرنے کو کہا اور اس کی وجہ کیا تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات کے دوران ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت ختم کر دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا مذاکرات میں اختلافات پیدا ہونے پر فریقین میز سے اٹھ جاتے ہیں؟ بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ یہ بتایا جائے کہ مذاکراتی عمل کو کس نے روکا اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت
چیئرمین پی ٹی آئی نے گفتگو کے دوران گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ہر فورم پر گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کی ہے۔بیرسٹر گوہر نے گورنر راج کو غیر قانونی اور ماورائے قانون اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں حالات ایسے نہیں تھے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جاتی۔انہوں نے مزید کہا کہ بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ان کے بقول ایک پوری سیاسی جماعت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسے اقدامات جمہوریت کے منافی ہیں اور انہیں بند ہونا چاہیے۔

سہیل آفریدی اور پارٹی رہنماؤں سے رابطے کا مسئلہ
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ 11 اکتوبر کے بعد سے پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ارکانِ صوبائی اسمبلی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے ساتھ بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے درمیان رابطوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر سوالات
بلاول بھٹو زرداری کی مذاکراتی دعوت کے تناظر میں بیرسٹر گوہر کے بیان نے سیاسی مذاکرات کے مستقبل سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض مذاکرات کی دعوت دینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ماضی میں مذاکراتی عمل کیوں رکا اور اسے دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں مذاکراتی عمل میں تعطل کی وجوہات جاننے پر زور دیا اور سوال کیا کہ جب فریقین کے درمیان اختلاف پیدا ہو تو کیا بات چیت ختم کر دینا ہی واحد راستہ ہوتا ہے۔