قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ ملک کے اہم آئینی اداروں، بشمول الیکشن کمیشن، کے سربراہان کی تعیناتی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آئینی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ وہ اور اپوزیشن کے دیگر اراکین گزشتہ تین ماہ سے بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات کی کوششیں کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آخرکار اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ کے حکم پر یہ ملاقات ممکن ہو سکی ہے۔عمر ایوب نے شکایت کی کہ گزشتہ روز ملاقات کے لیے جاتے ہوئے دو مقامات پر سیکیورٹی ناکوں پر انہیں روکا گیا، حالانکہ ان کے پاس عدالتی حکم موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود اس طرح کی رکاوٹیں پیدا کرنا جمہوری عمل کے منافی ہے۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپوزیشن کے جمہوری حقوق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اپوزیشن کی آواز کو ایوان کے اندر اور باہر دبایا جا رہا ہے۔ عمر ایوب نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کو اس کا آئینی و جمہوری کردار ادا کرنے دیا جائے اور عمران خان سے ملاقاتوں کے لیے مزید رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔