ویب ڈیسک:آباد کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی نے کراچی کی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی سے مزید اقدامات کی درخواست کی ہے اور کہا کہ شہر قائد کو اسلام آباد اور لاہور کی نسبت نظر انداز کیا گیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قبضہ مافیا کے خاتمے کے لیے پیپلز پارٹی کو فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کے لیے رنگ روڈ اور کوسٹل ہائی وے جیسے منصوبوں پر آباد کو کام کرنے کا موقع دیا جائے، تاکہ کراچی کا انفراسٹرکچر بہتر ہو سکے اور وفاق کو تین گنا زیادہ ٹیکس حاصل ہو۔محسن شیخانی نے مزید کہا کہ کراچی کے اقتصادی پہیے کی کامیابی وفاق اور سندھ دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگی، کیونکہ کراچی کا حصہ ایس آر بی کے 97 فیصد ریونیو میں ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ وہ کراچی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کریں اور کچی آبادیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قانونی اقدامات کریں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق صدر عارف حبیب نے بھی کراچی کی بہتری کے لیے بلڈرز کی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ 2025 میں رئیل اسٹیٹ بزنس میں بہتری متوقع ہے، تاہم عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔چیئرمین آباد حسن بخشی نے قبضہ مافیا کے حوالے سے کراچی کے بزنس مینوں کے مسائل پر بات کی اور کہا کہ کچی آبادیوں کی آڑ میں زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کراچی کے ماسٹر پلان کو مکمل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کے ایم سی کی ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت پر بات کی۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی اس موقع پر کراچی کے ریونیو میں اضافہ کا ذکر کیا اور کہا کہ کے ایم سی کا ماہانہ ریونیو 22 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔