بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے 6 سے 10 مئی 2025 کے دوران پاکستان کی فضائی حدود میں درجنوں سپرسونک میزائل اور عسکری ڈرونز فائر کیے، حالانکہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
جیسوال نے بتایا کہ بھارت نے اپنی تحقیقات مکمل کیے بغیر یہ کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت 40 بے گناہ شہری شہید ہوئے جبکہ 11 پاکستانی فوجی جوان مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سنگین خلاف ورزی کا نوٹس لے۔