پہلگام واقعہ: وزیراعظم نے برطانیہ کو غیر جانبدار تحقیقات کا حصہ بننے کی دعوت دی

پہلگام واقعہ: وزیراعظم نے برطانیہ کو غیر جانبدار تحقیقات کا حصہ بننے کی دعوت دی

وزیراعظم شہباز شریف اور برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پہلگام واقعے، علاقائی کشیدگی، اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔

 ملاقات میں وزیراعظم نے برطانیہ سے اہم کردار ادا کرنے کی اپیل کی، جبکہ برطانوی ہائی کمشنر نے امن و سلامتی کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات کی اہم تفصیلات:
1. بین الاقوامی تحقیقات کی دعوت:
وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی ہائی کمشنر کو آگاہ کیا کہ پاکستان پہلگام واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات کا حامی ہے، اور اس مقصد کے لیے برطانیہ کو بھی تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانا ہے۔

2. برطانیہ سے کردار ادا کرنے کی اپیل:
وزیراعظم نے زور دیا کہ برطانیہ اپنے پاکستان اور بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں امن کی بحالی میں کردار ادا کرے۔

3. برطانیہ کا ردعمل:
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ برطانیہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر علاقائی امن و سلامتی کے لیے کام کرے گا۔

 پس منظر: پہلگام واقعہ اور اس کے بعد کی صورتحال
تاریخ: 22 اپریل
جگہ: مقبوضہ کشمیر، پہلگام
واقعہ: سیاحوں کی بس پر حملہ، 26 افراد جاں بحق
بھارتی ردعمل: پاکستان پر الزام، سندھ طاس معاہدہ معطل، پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم
پاکستانی ردعمل: بھارتی الزامات مسترد، فضائی حدود بھارتی پروازوں کے لیے بند، شفاف تحقیقات کی پیشکش
بین الاقوامی ردعمل:
چین، ترکیہ، سوئٹزرلینڈ: پاکستان کے مؤقف کی حمایت
روس، امریکا، یورپی یونین: مسئلے کے پرامن حل اور مذاکرات پر زور
سوئٹزرلینڈ نے پاکستان کو تحقیقات میں مدد کی پیشکش بھی کی
 تجزیہ:
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کو پہلگام واقعے پر عالمی سطح پر سفارتی ناکامی کا سامنا ہے۔ امریکا، یورپی یونین اور روس جیسے اہم ممالک کی جانب سے مذاکرات پر زور دینا بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کی ناکامی کی علامت ہے۔ فالس فلیگ آپریشن کی کوششیں عالمی برادری میں بے نقاب ہو رہی ہیں۔

نتیجہ:
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر بھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔