جوہری حدود اور امن کی نازک نوعیت

سمیع اللہ ملک (دوسری قسط)
امریکا کی یونیورسٹی ایٹ البانی کے پروفیسر کرسٹوفر کلیری کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے حملوں کی وسعت اور پاکستان میں کئی ٹھکانوں پر واضح جانی و مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا ردعمل انتہائی متوقع ہے۔انھوں نے عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: اگر پاکستان کوئی ردعمل نہ دے تو یہ انڈیا کو کھلی اجازت دینے کے مترادف ہو گا کہ وہ جب چاہے کارروائی اور حملہ کرے اور یہ پاکستانی فوج کے ادلے کا بدلہ اصول کے خلاف بھی ہو گا۔
زیادہ تر ماہرین اس بات پرمتفق ہیں کہ پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی ناگزیرہے اورجلدیابدیرسفارتکاری کی ضرورت پڑے گی۔بالآخر بھارت نے پاکستانی نورخان ائیر بیس اوررحیم یارخان ائیربیس پر حملہ کرکے پاکستان کو مجبورکردیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس جارحیت کا منہ توڑجواب دیا جائے۔10مئی کے نصف شب رات ایک بج کر50 منٹ پرپاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی میں ایک نیاموڑآیا،جب بھارت نے آدم پور سے6بیلسٹک میزائل فائرکیے،جوتمام بھارتی حدودمیں ہی گرگئے۔ان میں سے ایک میزائل آدم پورمیں جبکہ باقی5/امرتسرکے علاقوں میں گرے۔اس واقعے کے بعد،پاکستان نے’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘کے تحت جوابی کارروائی کی،جس میں بھارت کے مختلف علاقوں میں25اہداف کونشانہ بنایاگیا۔ان حملوں میں بھارتی فضائی اڈے،اسلحہ ڈپواوردیگرفوجی تنصیبات شامل تھیں۔پاکستانی ذرائع نے شواہد کے ساتھ دعویٰ کیاکہ اس حملے میں جہاں سے حملے ہوئے،وہی پرجوابی میزائل داغے گئے اورپاکستان نے صرف فوجی تنصیبات پرحملے کئے۔
جے ایف17تھنڈرطیارے نے آدم پوربیس پرہائپرسپرسونک میزائل سے ائیرڈیفنس سسٹم ایس400کوراکھ کردیا۔بھارت کے آدم پور،اودھم پور،بھٹنڈہ،سورت گڑھ، مامون ،اکھنور،جموں اوربرنالہ کی ائیربیسزاورفیلڈکومکمل تباہ کردیا۔بھارت کی بھارت کی سورت گڑھ،سرسہ اوربھٹنڈہ ائیرفیلڈز،بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری،اڑی فیلڈسپلائی ڈپو،سسہ اورہلوارہ ائیرفیلڈکومکمل تباہ کردیاگیا۔راجوری میں افواجِ پاکستان کی کاروائی میں ایڈیشنل ڈی سی راج کمارتھاپاجوبھارتی حکومت کی پشت پناہی میں کام کرنے والا سہولت کاراور کشمیریوں پربے تحاشہ ظلم کرتاتھا،ماراگیا۔بھارتی حکومت نئی دہلی،اور گجراتی قصاب مودی کے شہرگجرات میں پاکستانی ڈرون کی کامیاب پروازیں اوراہداف کانشانہ بنایاگیا۔پاکستانی میزائل اور ڈرون کوجہاں جہاں حملہ کرناتھا،وہ کامیابی کے ساتھ ٹھیک نشانے پرپہنچے۔پاکستانی الفتح 1میزائل سسٹم کے ذریعے متعدد بھارتی اہداف کونشانہ بنایا گیا اورپاک فضائیہ نے پہلی مرتبہ کامیابی کے ساتھ اپناتیارکردہ جے10سیطیارہ کاکامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔پاک فوج نے مضبوط شواہدکیلئے میزائل لیجانے والے جے ایف 17 تھنڈر اوردیگرطیاروں کی کئی ویڈیوز جاری کردیں تاکہ اقوام عالم اورعالمی میڈیااس سے باخبرہو۔ان طیاروں کی کامیابی خوداپنامنہ بولتے ثبوت کے ساتھ پیش کر دی گئیں۔
میزائل حملے کے بعد انڈین کی طرف سے پہل کرنے کے جواب میں سائبرحملے بھی شروع کر دیئے گئے ہیں۔بیشترانڈین ویب سائٹس میں بی جے پی کی آفیشل ویب سائٹ، کرائم ریسرچ انویسٹی گیشن ایجنسی،ماہانگرٹیلی کیمونیکیشن کمپنی لمٹیڈ، ارتھ موورزلمیٹیڈ،آل اںڈیانیوی ٹیکنیکل سپروائزری سٹاف ایسوسی ایشن،ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ،ہارڈر سیکورٹی فورسز، یونیک آٹونیٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا،انڈین ائیرفورس،مہاراشٹرالیکشن کمیشن اوراس سے منسلک دیگرسائٹس ہیک کی گئی، سائٹس کامکمل مواداڑادیاگیا۔انڈیامیں سائبراٹیک سے70فیصد بجلی گرڈتباہ کرکے ملک کابیشترحصہ تاریک ہوگیا۔پاکستانی سائبرصلاحیت کااس سے زیادہ کیااندازہ لگایاجاسکتاہے۔ 
سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان کے پاس زمین سے فضامیں مارکرنے والے میزائلوں کے خلاف دفاعی صلاحیت ہے؟جی ہاں!پاکستانی فضائی دفاعی نظام کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ زمین سے زمین پرکم فاصلے،درمیانے فاصلے اورطویل فاصلے تک مارکرنے والے کروزاوربیلسٹک میزائلوں کوروک سکے۔پاکستان نے اپنے دفاعی نظام میں چینی ساختہ ایچ کیو  16 ایف ای ڈیفنس سسٹم سمیت مختلف میزائل سسٹمزکوشامل کیاہے جوپاکستان کوجدیددفاعی میزائل نظام کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں اوریہ زمین سے زمین مار کرنے والے میزائل ،کروزمیزائلوں اورجنگی جہازوں کے خلاف مثرہے۔تاہم اگرفضاسے زمین پرمارکرنے والے میزائل کوانٹرسیپٹ(روکنے)کرنے کی بات کی جائے توایسادفاعی نظام موجودنہیں ہے۔
دنیامیں فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے والاایساکوئی دفاعی نظام نہیں بنا،خاص کرایسی صورتحال میں جس میں پاکستان اورانڈیا جیسے ممالک جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں اور بعض مقامات پریہ فاصلہ محض چندمیٹرکارہ جاتاہے،ایسے میں فضاسے زمین پرکیے جانے والے میزائل حملوں کوسوفیصدروکنایقیناناممکن ہے۔ہردفاعی نظام کی صلاحیت کی ایک حد ہوتی ہے کہ اگربیک وقت مختلف قسم کے متعددمیزائل فضامیں مختلف سمت سے داغے جاتے ہیں تووہ کس قسم کے میزائلوں کوروکے گا۔
بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستان نے متعدد جدیدمیزائل اورریڈار نظام شامل کیے ہیں اوراپنی دفاعی صلاحیت کوبہتربنایاہے۔اگرچہ یہ جدیددفاعی نظام بہت حد تک مؤثرہوتے ہیں تاہم یہ ممکن نہیں کہ آپ ڈھائی ہزارسے زائدکلومیٹرطویل مشرقی سرحدپرکوئی ایساایئر ڈیفنس سسٹم لگائیں جوسوفیصدیہ ممکن بنائے کہ کوئی میزائل وہاں سے داخل نہ ہوسکے۔ ایسا کرنے کیلئے اربوں ڈالرزدرکارہوں گے اوروہ سرحدوں کی انتہائی قربت کی وجہ سے اتناکارآمد بھی نہیں ہوگا۔انڈیاکے پاس بھی ایسی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
اگرہم6مئی کی شب کے واقعے کی بات کریں تواس میں ہمیں کچھ باتوں کوسمجھناہوگا۔ممکنہ طورپرانڈیاکی جانب سے یہ میزائل فضا سے زمین پرداغے گئے ہیں اوراگرہم فضاسے زمین پرمارکرنے والے میزائلوں کی بات کریں تویہ آج کل بہت جدیدہوگئے ہیں۔ان کی رفتاربہت تیزہوگئی ہے جوماک تھری(3675کلومیٹرفی گھنٹہ)سے ماک نائن (11025کلومیٹرفی گھنٹہ)تک جاتی ہیں اوراتنے تیزرفتار میزائل کوروکنے یاانٹرسیپٹ کرنے کی صلاحیت امریکا،روس اورچین سمیت کسی بھی ملک کے پاس نہیں ہے۔
فضاسے فائرکیے جانے والے میزائل کوروکنے میں ایک اورمشکل یہ بھی ہے کہ ان کاپروازکادورانیہ بہت کم ہوتاہے اورآپ کے پاس ردعمل کرنے کا وقت بہت محدودہوتاہے جبکہ اس کے برعکس زمین سے زمین پرمارکرنے والے میزائل کوروکاجاسکتاہے کیونکہ ان کی پرواز کادورانیہ زیادہ ہوتاہے۔انڈیاکے پاس بھی یہ دفاعی صلاحیت نہیں کہ اگرپاکستان فضا سے زمین پرکوئی میزائل داغے تووہ اسے روک پائے۔اگر پہلی شب کے واقعے کی بات کریں توایساہی معاملہ تھاکہ پاکستان کے پاس ردعمل کاوقت بہت محدودتھااوریہ میزائل چند ہی لمحوں میں پاکستان میں آگرے۔دنیاکاکوئی بھی دفاعی نظام ایسانہیں جوجغرافیائی طورپرساتھ جڑے حریف ممالک کے حملوں کوسوفیصد تک روک سکے۔
تاہم یہ نقصان کوکم کرسکتاہے۔ایسے نظام میں دفاع کیلئے حملے کی نوعیت بھی اہم ہے۔اگربیک وقت فضاسے زمین پرمارکرنے والے میزائل مختلف اطراف سے فائرکیے جاتے ہیں تواس میں ان کی ریڈارپرنشاندہی کرنااورفوری ردعمل دیناکچھ مشکل ہوتاہے۔جبکہ اگر زمین سے زمین پرمارکرنے والے میزائلوں یاکروزمیزائلوں کی بات کی جائے توان کی ڈپلوائمنٹ کاعلم ہوتاہے اورآپ ان کے فلائیٹ پاتھ یاکوریڈورکوکورکرسکتے ہیں۔
 پہلے ہی دن پاکستانی فضائیہ نے انڈیاکے5طیارے اورایک جنگی ڈرون مارگرانا ایک ٹیکٹیکل معاملہ اورہرفضائی ماہرکی اس پررائے مختلف ہوسکتی ہے کیونکہ ائیرفائٹ کی صورتحال میزائل حملوں کے کافی مختلف ہوتی ہے۔جب کسی بھی ملک کی فضائیہ کسی دوسرے ملک پرجہازوں سے میزائل فائرکرتی ہے تواس کامطلب ہوتاہے کہ جنگ شروع ہوگئی اوراِس کے بعداس ملک کی فضائیہ وہاں رکتی نہیں بلکہ وہاں سے آگے بڑھتی ہے کیونکہ وہاں رکناانتہائی غیردانشمندانہ ہوتاہے وہ بھی ایسے وقت میں جب دشمن کے جہازبھی فضامیں ہوں۔
انڈین میڈیامیں ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ انڈین جہازپاکستانی فضائی حملے کے خلاف دفاعی حکمت عملی کے تحت فلیئرفائراستعمال کررہے تھے لیکن یہ دفاعی حکمت عملی وہاں کارآمد ہوتی ہے جہاں انفراریڈگائیڈڈمیزائل آپ پر15سے20کلومیٹرسے فائرکیاگیاہو۔یہ دفاعی حکمت عملی ریڈارگائیڈڈمیزائل کے خلاف کام نہیں کرتی۔انڈیاکویہ اندازہ نہیں تھاکہ پاکستان ان پران کی فضائی حدودکے اندرہی کوئی کارروائی کرے گا۔تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق لڑاکا طیاروں کی فضامیں لڑائی کی صورتحال بہت مختلف ہوتی ہے۔اگرزمین سے فضامیں مار کرنے، یا زمین سے زمین سے مارکرنے کے دفاعی نظام میں آپ کوان میزائلوں کی صلاحیت،داغے جانے کے ممکنہ مقام، اورپروازکے ممکنہ پاتھ کاعلم ہوتاہے مگرفضامیں لڑائی میں ہم کوعلم نہیں کہ کہاں سے کیافائرکیاجاسکتاہے اورآپ کوہر طرف سے خودکوکورکرناہوتاہے۔(جاری ہے)