جوہری سایوں میں امن کی تلاش

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخِ انسانی کے اوراق جب کبھی ورق گردانی کیلئے کھلتے ہیں توان کے حاشیوں پرہمیں محض شمشیروسناں کی جھنکاریابارودکی بو نہیں ملتی،بلکہ ایک ایسانادیدہ توازن بھی جھلکتانظر آتا ہے جوقوموں کی بقاکانگہبان اوران کے عروج وزوال کاخاموش منصف رہاہے۔ یہی توازن کبھی خوف کے پردے میں مستوررہا،کبھی حکمت کے جامے میں ملبوس ہوا،اورکبھی قوت کے جلال میں جلوہ گرہوکر زمانوں کی تقدیررقم کرتارہا۔
عصرِحاضرمیں یہی نادیدہ قوت ایک نئے قالب میں ڈھل چکی ہے جوہری صلاحیت کاقالب۔یہ وہ سایہ ہے جوامن کے آسمان پربھی اپنی ہیبت طاری رکھتاہے اورجنگ کے امکان کوایک خاموش مگرمستقل وسوسے کی طرح انسانی شعورمیں زندہ رکھتاہے۔یہ محض ہتھیار نہیں،بلکہ ارادوں،اندیشوں اورامکانات کاوہ مجموعہ ہے جس نے عالمی سیاست کے مزاج کویکسربدل دیاہے۔
جنوبی ایشیایہ خطہ جوکبھی تہذیبوں کی آماجگاہ،افکارکی جولانگاہ اورتاریخ کے عظیم تجربات کاامین رہاآج اسی جوہری توازن کی ایک نہایت نازک گھڑی سے گزررہاہے۔یہاں طاقت محض قوتِ بازوکانام نہیں رہی،بلکہ ایک ایسی سنجیدہ حکمتِ عملی کاعنوان بن چکی ہے جس میں ہرقدم ناپ تول کررکھاجاتاہے،ہرخاموشی ایک پیغام رکھتی ہے،اورہرپیش رفت اپنے اندرایک نئی معنویت سموئے ہوئے ہوتی ہے۔یہ خطہ اب محض جغرافیے کی حدودمیں محصورنہیں رہا،بلکہ ایک ایسے وسیع ترتزویراتی منظرنامے کاحصہ بن چکاہے جہاں ہر حرکت عالمی سیاست کے دھاروں کومتاثرکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہاں خوف اورامید،احتیاط اورجرت،اورتدبر وتوازن کی کشمکش ایک ایسی داستان رقم کررہی ہے جونہ صرف حال کومعنی دیتی ہے بلکہ مستقبل کے خدوخال بھی متعین کرتی ہے۔پس،جنوبی ایشیاکاجوہری توازن محض ہتھیاروں کی گنتی کامسئلہ نہیں،بلکہ ایک فکری،اخلاقی اورتزویراتی امتحان ہے، ایساامتحان جس میں کامیابی کاانحصارقوت کے اظہار پرنہیں بلکہ اس کے ضبط،اس کے ادراک اوراس کے ذمہ دارانہ استعمال پرہے۔
سپری کی حالیہ رپورٹ میں انڈیاکی جانب سے12نئے جوہری وارہیڈزکی تعیناتی کاذکرمحض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک گہری تزویراتی پیش رفت کی علامت ہے۔جوہری ہتھیاروں کے میدان میں تعدادسے زیادہ اہمیت ان کی تیاری،تعیناتی اورفوری استعمال کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس اعتبارسے یہ اقدام نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کیلئے بھی کئی سوالات کوجنم دیتاہے کہ آیایہ پیش رفت محض دفاعی ضروریات کاحصہ ہے یاطاقت کے علاقائی وعالمی توازن کوایک نئی سمت دینے کی کوشش؟
انڈیاکی جانب سے ان وارہیڈزکی تعیناتی کوصرف اعدادوشمارکی زبان میں دیکھنااس کے حقیقی تزویراتی پہلوں کونظراندازکرناہوگا۔ دراصل یہ اقدام طاقت کے اظہار،فوری ردِعمل کی صلاحیت میں اضافے اورایک ایسی دفاعی سوچ کی عکاسی کرتاہے جس میں ہتھیاروں کومحض ذخیرہ کرنے کی بجائے عملی تیاری کی حالت میں رکھنے کواہمیت دی جاتی ہے۔جدید جنگوں کافیصلہ صرف اسلحے کی مقدارسے نہیں بلکہ تیاری کی سطح،تکنیکی برتری،کمانڈاینڈکنٹرول نظام اوربروقت ردِعمل کی صلاحیت سے ہوتاہے۔اسی لیے جوہری وارہیڈزکی تعیناتی ایک ایساپیغام بھی سمجھی جاتی ہے جوعسکری دائرے سے نکل کرسفارتی اورسیاسی میدانوں تک پہنچتاہے۔یہ پیش رفت خطے میں موجودطاقت کے توازن،باہمی اعتماداورمستقبل کے تزویراتی رویوں پراثراندازہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جنوبی ایشیاجیسے حساس خطے میں،جہاں دوایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے موجودہیں،ہرنئی تعیناتی صرف ایک عسکری فیصلہ نہیں رہتی بلکہ امن،استحکام اورعلاقائی سلامتی کے وسیع ترسوالات سے جڑجاتی ہے۔
عالمی سطح پرامن،سلامتی اوردفاعی امورکے مطالعے کے حوالے سے ایک معتبرتحقیقی ادارہ سمجھاجاتاہے،جس کی رپورٹس دنیابھر میں پالیسی سازوں،دفاعی ماہرین اورمحققین کیلئے اہم حوالہ رکھتی ہیں۔تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظررہنی چاہیے کہ سپری کی بیشتر تحقیقات اوپن سورس معلومات،دستیاب اعدادوشماراورتجزیاتی اندازوں پرمبنی ہوتی ہیں،اس لیے یہ کسی بھی ملک کی حقیقی جوہری صلاحیتوں کی مکمل اورحتمی تصویرپیش کرنے کی بجائے ایک تحقیقی تخمینہ فراہم کرتی ہیں۔2025کی رپورٹ میں سپری نے اس امرکی نشاندہی کی کہ ایک طرف انڈیااپنے جوہری پروگرام،میزائل نظام اوردفاعی صلاحیتوں کو وسعت دے رہاہے،جبکہ دوسری جانب پاکستان بھی اپنی ڈیلیوری صلاحیتوں کوجدید خطوط پراستوارکرنے کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنی جوہری وارہیڈزکی تعدادمیں اضافہ نہیں کیا،جواس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ پاکستان کی حکمتِ عملی محض تعدادبڑھانے کی بجائے دفاعی توازن،مؤثربازدارصلاحیت اوربدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے مطابق تیاری پر مرکوزہے۔
درحقیقت سپری رپورٹ جنوبی ایشیا کے دومختلف دفاعی فلسفوں کونمایاں کرتی ہے۔ایک جانب انڈیاکاوہ راستہ ہے جس میں جوہری صلاحیتوں کی توسیع،طویل فاصلے تک مارکرنے والے نظاموں کی ترقی اورعالمی سطح کی تزویراتی قوت بننے کی خواہش نظرآتی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی پالیسی کم سے کم مگرقابلِ اعتماد بازدارصلاحیت کے اصول پرقائم دکھائی دیتی ہے۔یوں سپری رپورٹ کومحض اعدادوشمارکی فہرست سمجھنادرست نہیں ہوگا،بلکہ یہ جنوبی ایشیاکے بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول کاایک عکس ہے ایساعکس جس میں طاقت کے حصول،دفاعی ضرورت،علاقائی خدشات اورعالمی سیاست کے پیچیدہ رشتے ایک ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔
سپری کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے2025کے دورا’’ن فیسل‘‘ موادجمع کیا،جسے بعض مبصرین ایک طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کے تناظرمیں دیکھتے ہیں۔تاہم اس عمل کوکسی فوری جوہری توسیع یاہتھیاروں کی دوڑکے تناظرمیں سمجھنادرست نہیں ہوگا،بلکہ یہ ایک ایسی محتاط حکمتِ عملی کاحصہ قراردیاجاسکتاہے جس کامقصدبدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں دفاعی صلاحیت کو برقراررکھناہے۔ فیسل مواددراصل وہ خاموش تزویراتی سرمایہ ہوتاہے جوضرورت کے وقت دفاعی صلاحیتوں کومضبوط بنانے میں کردارادا کر سکتاہے۔
مئی 2025میں پاکستان اورانڈیاکے درمیان ہونے والی مختصرعسکری جھڑپ نے جنوبی ایشیاکے جوہری ماحول کی حساسیت کوایک بارپھرنمایاں کردیا۔اگرچہ یہ کشیدگی محدودرہی اور دونوں ممالک نے حالات کومزیدبگڑنے سے روکنے کیلئے سفارتی وعسکری سطح پراحتیاط کامظاہرہ کیا،لیکن اس واقعے نے یہ حقیقت واضح کردی کہ دوجوہری طاقتوں کے درمیان معمولی نوعیت کابحران بھی عالمی تشویش کاباعث بن سکتاہے۔یہ واقعہ اس امرکی یاددہانی تھاکہ جوہری طاقت کااصل امتحان صرف ہتھیاررکھنے میں نہیں بلکہ بحران کے لمحات میں ضبط،دانش مندی اورذمہ دارانہ طرزِعمل اختیارکرنے میں ہے۔جنوبی ایشیاکاامن اسی نازک توازن سے وابستہ ہے جہاں دفاعی تیاری اورجنگ سے گریز،دونوں کوبیک وقت پیشِ نظررکھناناگزیرہے۔
سپری کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2025 کے دوران فیسل موادجمع کیا،جسے بعض دفاعی مبصرین ایک طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی کے تناظرمیں دیکھتے ہیں۔تاہم اس عمل کومحض جوہری توسیع یاہتھیاروں کی دوڑکے زاویے سے دیکھنااس معاملے کی پیچیدگی کومحدودکردیتاہے۔درحقیقت یہ بدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں دفاعی صلاحیت کوبرقراررکھنے اورمستقبل کے ممکنہ چیلنجزکیلئے تیاری کی ایک محتاط حکمتِ عملی کاحصہ قراردیاجاسکتاہے۔فیسل موادکسی بھی جوہری پروگرام میں ایک اہم تزویراتی عنصرکی حیثیت رکھتاہے،جوبوقتِ ضرورت دفاعی صلاحیتوں کومضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتاہے۔تاہم اس کی اہمیت صرف مقدارمیں نہیں بلکہ اس کے استعمال،نگرانی،کمانڈاینڈ کنٹرول نظام اور مجموعی دفاعی پالیسی کے تناظرمیں سمجھی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جوہری طاقت رکھنے والے ممالک اپنی صلاحیتوں کوصرف ہتھیاروں کی تعدادسے نہیں بلکہ توازن، اعتباراورمؤثربازدارقوت کے اصولوں کے تحت ترتیب دیتے ہیں۔
مئی 2025میں پاکستان اورانڈیاکے درمیان ہونے والی مختصرعسکری جھڑپ نے جنوبی ایشیاکے جوہری ماحول کی حساسیت کوایک بارپھرنمایاں کردیا۔اگرچہ یہ کشیدگی محدودرہی اور دونوں ممالک نے حالات کومزیدبگڑنے سے روکنے کیلئے سفارتی وعسکری سطح پراحتیاط اورذمہ داری کامظاہرہ کیا،لیکن اس واقعے نے یہ حقیقت واضح کردی کہ دوجوہری طاقتوں کے درمیان معمولی نوعیت کا بحران بھی نہایت خطرناک نتائج کاحامل ہوسکتاہے۔(جاری ہے)