ثمر عباس لنگاہ
دنیا کی یہ رنگا رنگ بستی۔۔۔ مختلف لہجوں، مختلف سوچ اور متنوع عقیدوں کا حسین امتزاج ہے۔ گویا یہ ایک گلشن ہے جس میں گلاب بھی ہیں، نرگس بھی اور کانٹے بھی۔۔۔ مگر جب انسان اپنے دل کے اندر برداشت کا چشمہ جاری کر لیتا ہے تو یہی گلشن امن و محبت کا جنت نظیر منظر بن جاتا ہے۔ رواداری دراصل اسی چشمہ سکون کا نام ہے۔۔۔ وہ نازک نکتہ جہاں انسان اپنے "میں" کے خول سے نکل کر "ہم" کے آفاقی دائرے میں قدم رکھتا ہے۔رواداری محض ایک خصلت نہیں بلکہ وہ تہذیبی وقار ہے جو انسان کو انسانیت کے بلند زینے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ اس لطیف نغمے کی مانند ہے جو شورِ اختلاف کے درمیان بھی دل کے ساز کو مطمئن رکھتا ہے۔ جس دل میں رواداری کی روشنی اتر جائے، وہاں نفرت کا سایہ ٹک نہیں سکتا۔ یہ احساس کا وہ ابدی رنگ ہے جو رگِ انسانیت میں لہو کی مانند رواں رہتا ہے۔دنیا کی ہر مہذب قوم کی بنیاد رواداری پر قائم ہے۔ جہاں برداشت دم توڑتی ہے، وہاں تہذیب کا جنازہ اٹھتا ہے۔ معاشرے اسی وقت زوال پذیر ہوتے ہیں جب انسان اپنے سوا کسی کو جینے کا حق نہیں دیتا۔ اختلافِ رائے اگر عقل کی نمو ہے تو رواداری اس کی تہذیبی بالیدگی۔ اختلاف کو دشمنی بنا لینا دراصل خود اپنے ذہنی افق کو تنگ کر لینا ہے۔رواداری کی اصل روح یہ ہے کہ انسان اپنے سے مختلف شخص کو بھی احترام کی نظر سے دیکھے۔ اس کا عقیدہ، زبان، خیال یا انداز کچھ بھی ہو، مگر اس کے جینے کے حق کو تسلیم کرے۔ یہی وہ پوشیدہ حسن ہے جو انسان کو حیوانیت سے بلند کر کے اخلاق کی رفعتوں پر فائز کرتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب جب انسان نے رواداری کو پسِ پشت ڈالا، تمدن برباد ہوا، علم کے چراغ بجھے اور دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔ قوموں کی عظمت جنگوں سے نہیں بلکہ برداشت سے محفوظ رہتی ہے۔ اور وہ دل جو دوسروں کے لیے نرم نہیں، وہ اپنی ہی سختی میں ٹوٹ جاتا ہے۔کبھی کبھی خاموشی بھی رواداری کی سب سے خوبصورت صورت ہوتی ہے۔ جب کسی کی بات دل پر گزر جائے، مگر انسان لبوں پر تبسم رکھ لے، تو یہی کردار کا کمال ہے۔ یہ ضبطِ نفس کا وہ درجہ ہے جہاں سے امن کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔
رواداری کے بغیر محبت ادھوری اور تہذیب بے روح ہے۔ اختلاف کے بیچ اگر کوئی چیز دلوں کو جوڑ سکتی ہے تو وہ یہی ہے۔۔۔ رواداری۔۔۔
اسلام بھی رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔۔۔ زندگی کی اصل دانائی یہی ہے کہ ہم دوسروں کے عیبوں پر نہیں، اپنی اصلاح پر نظر رکھیں۔ جب انسان یہ سمجھ لے کہ ہر چہرے کے پیچھے ایک کہانی ہے اور ہر رائے کے پیچھے ایک تجربہ، تو دل میں نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی نرمی انسان کو انسان بناتی ہے اور یہی رواداری کا جوہر ہے۔