جوہری سایوں میں امن کی تلاش

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
سپری کے تخمینے کے مطابق انڈیاکے پاس تقریبا190جوہری وارہیڈزموجودہیں،تاہم بعض دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ تعدادانڈیاکی حقیقی جوہری صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ان کے مطابق انڈیاکاوسیع جوہری انفراسٹرکچر،ری ایکٹرزکی موجودگی،فیسل موادکی پیداوارکی صلاحیت اورطویل المدتی منصوبہ بندی اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی مجموعی صلاحیت موجودہ تخمینوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔انڈیاکاجوہری پروگرام صرف موجودہ ہتھیاروں کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں ایک طویل المدتی تزویراتی سوچ کارفرمادکھائی دیتی ہے،جس میں ایندھن کی تیاری،میزائل نظام کی ترقی،سمندری جوہری صلاحیت اورمستقبل کی دفاعی ضروریات کو پیشِ نظررکھاجارہاہے۔یہی وسعت بعض مبصرین کے نزدیک جنوبی ایشیامیں طاقت کے توازن کیلئے ایک اہم سوال بن جاتی ہے۔تاہم جوہری صلاحیت کاحقیقی جائزہ صرف اعدادوشمارسے نہیں بلکہ مجموعی تزویراتی ڈھانچے،دفاعی مقاصد،کمانڈاینڈکنٹرول نظام اور علاقائی سلامتی کے تناظرمیں لیاجاتاہے۔انڈیاکے پروگرام کی بڑھتی ہوئی وسعت جہاں اس کی دفاعی ترجیحات کوظاہر کرتی ہے،وہیں یہ خدشہ بھی پیداکرتی ہے کہ اگرخطے میں شفافیت،اعتماد سازی اورذمہ دارانہ رویوں کوفروغ نہ دیاگیاتوطاقت کایہ پھیلاؤجنوبی ایشیامیں عدمِ توازن کے نئے مسائل کوجنم دے سکتاہے۔
پاکستان کی جوہری حکمتِ عملی کابنیادی اصول تعدادمیں اضافے کے بجائے مؤثربازدارصلاحیت برقراررکھناہے۔اس کامقصدہتھیاروں کی بے انتہادوڑ میں شامل ہونانہیں بلکہ ایسی قابلِ اعتماد دفاعی قوت قائم رکھناہے جوکسی بھی ممکنہ جارحیت کوروکنے کیلئے کافی ہو۔یہی تصورڈیٹرنس کے فلسفے کی بنیادہے،جس کے مطابق جنگ کوروکنے کابہترین ذریعہ یہ ہے کہ مخالف فریق کوکسی بھی جارحانہ اقدام سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کامکمل ادراک ہو۔اس حکمتِ عملی میں اصل اہمیت ہتھیاروں کی تعدادسے زیادہ ان کی مؤثریت، حفاظت، تیاری اوربروقت ردِعمل کی صلاحیت کوحاصل ہوتی ہے۔
انڈیاکی جانب سے جوہری وارہیڈزکی مبینہ تعیناتی کے حوالے سے واضح سرکاری ردِعمل سامنے نہ آنابھی اپنی جگہ ایک اہم پہلوہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ خاموشی ایک محتاط سفارتی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے،جبکہ بعض اسے اس حساس معاملے کوعالمی بحث سے دوررکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کامحتاط اورسفارتی اندازیہ ظاہر کرتاہے کہ جوہری معاملات میں محض بیانات نہیں بلکہ الفاظ کاانتخاب بھی ایک تزویراتی اہمیت رکھتاہے۔ایسے ماحول میں خاموشی بھی کبھی کبھی ایک پیغام بن جاتی ہے،کیونکہ طاقت کے اس کھیل میں ہراعلان اورہر عدمِ اعلان اپنے اندرایک معنی رکھتاہے۔
جدیدجوہری حکمتِ عملی میں آبدوزی صلاحیت کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہے،کیونکہ سمندرکی گہرائیوں میں موجودیہ پلیٹ فارم بظاہرنظرنہ آنے کے باوجوددفاعی توازن میں فیصلہ کن کردارادا کرتے ہیں۔انڈیاکی جانب سے جوہری صلاحیت رکھنے والی آبدوزوں کی ترقی اس کے دفاعی نظام کوایک نئی جہت فراہم کرتی ہے،کیونکہ ایسی صلاحیت کسی بھی ملک کودوسری جوابی کارروائی کا امکان فراہم کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیاکی بڑی جوہری طاقتیں بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں سمندری صلاحیت کوبنیادی ستون کی حیثیت دیتی ہیں۔
جوہری دفاعی نظام کاسب سے جدیدتصورنیوکلیئرٹرائیڈہے،جس میں زمین،فضااورسمندر تینوں ذرائع سے جوہری صلاحیت برقرار رکھی جاتی ہے۔یہ نظام کسی بھی ممکنہ حملے کے بعد مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت کومضبوط بناتا ہے۔انڈیاکااس سمت میں پیش قدمی کرنااس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے دفاعی ڈھانچے کوزیادہ جامع اورکثیر جہتی بنانے کی کوشش کررہاہے۔تاہم ایسی صلاحیتوں میں اضافہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی تزویراتی سوالات پیداکرتاہے،کیونکہ طاقت کے ہرنئے مرحلے کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کاچیلنج بھی بڑھ جاتا ہے۔
جوہری پروگرام میں ایندھن کاانتخاب بھی ایک اہم تزویراتی عنصرہوتاہے۔سپری کیمطابق انڈیااپنے جوہری پروگرام میں پلوٹونیم پر خاص توجہ دے رہاہے،جواس کی طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کاایک اہم حصہ سمجھاجاتاہے۔پلوٹونیم پرمبنی حکمتِ عملی بعض ممالک،خصوصااسرائیل،کے جوہری پروگراموں سے مشابہت رکھتی ہے،جبکہ امریکا، روس، چین ، فرانس،برطانیہ اورپاکستان سمیت کئی ممالک یورینیئم اورپلوٹونیم دونوں ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ایندھن کے انتخاب میں یہ فرق ہرملک کی دفاعی ترجیحات اورتزویراتی ضروریات کی عکاسی کرتاہے۔
انڈیاکی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ اس کی توجہ اب ایسے میزائل نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہے جوطویل فاصلے تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔خاص طورپرایسے ہتھیارجوچین جیسے بڑے ملک کے مختلف علاقوں تک رسائی حاصل کرسکیں،اس کے دفاعی نظریے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ انڈیااپنی جوہری صلاحیتوں کوصرف جنوبی ایشیاکے تناظرمیں نہیں بلکہ وسیع ترعالمی تزویراتی ماحول کے پس منظر میں بھی دیکھ رہاہے۔انڈیا کابڑھتاہوا دفاعی بجٹ اس کی عسکری ترجیحات اورعالمی سطح پرزیادہ نمایاں کردارادا کرنے کی خواہش کااظہارہے۔92.1ارب ڈالرکے دفاعی اخراجات نے اسے دنیاکے بڑے دفاعی ممالک کی صف میں شامل کردیا ہے۔دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی،تحقیق اورعسکری استعدادمیں اضافے کاذریعہ بنتاہے،تودوسری جانب خطے میں طاقت کے توازن اور سلامتی کے خدشات کوبھی متاثرکرسکتاہے۔جنوبی ایشیاجیسے حساس خطے میں دفاعی اخراجات کاہربڑاقدم اپنے ساتھ سیاسی اورتزویراتی اثرات بھی لاتاہے۔
عالمی سطح پرکئی ممالک اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے جدید ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ کررہے ہیں۔پاکستان،سعودی عرب،قطراوریوکرین سمیت مختلف ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ اسی عالمی رجحان کی عکاسی کرتاہے۔تاہم پاکستان کی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں پہلومقامی دفاعی پیداوارپربڑھتاہواانحصارہے۔بیرونی خریداری کی بجائے مقامی تحقیق،دفاعی صنعت اور تکنیکی خودکفالت پرتوجہ پاکستان کوایک مختلف راستہ اختیارکرنے کی اجازت دیتی ہے۔یہ پالیسی نہ صرف معاشی دباؤکوکم کرنے میں مدددیتی ہے بلکہ دفاعی خودمختاری کوبھی مضبوط کرتی ہے۔مقامی صلاحیتوں کی تعمیر دراصل ایک خاموش انقلاب کی مانندہے،جو کسی بھی ملک کوطویل المدتی سلامتی اورخود اعتمادی فراہم
 کرتا ہے۔
جنوبی ایشیا کاجوہری منظرنامہ محض میزائلوں،وارہیڈزاوردفاعی بجٹوں کی داستان نہیں بلکہ طاقت،خوف،حکمت اورذمہ داری کے درمیان ایک مسلسل کشمکش کی تصویرہے۔اس خطے میں ہرنئی تزویراتی پیش رفت یہ یاددہانی کراتی ہے کہ امن اورطاقت کے درمیان ایک نہایت باریک لکیرموجودہے،جسے عبورکرنانہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کیلئے بھی سنگین نتائج کاباعث بن سکتاہے۔یہ تمام حقائق اس امرکی غمازی کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیاآج تاریخ کے ایک اہم دوراہے پرکھڑاہے۔اگرطاقت کایہ توازن دانش،تدبراورذمہ داری کے اصولوں کے تحت برقراررکھاگیاتویہ خطہ ترقی،تعاون اوراستحکام کی ایک نئی داستان رقم کرسکتاہے،لیکن اگریہ نازک توازن بگڑ گیاتوتاریخ ایک بارپھراپنے صفحات کوخون اورالمیے کی سیاہی سے رقم کرسکتی ہے۔
جوہری دورکاسب سے بڑاسبق یہی ہے کہ حقیقی قوت صرف ہتھیاررکھنے میں نہیں بلکہ ان کے استعمال سے گریزکرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔دانش کاتقاضا یہ ہے کہ جوہری صلاحیت کوجنگ کے دروازے کھولنے کی بجائے امن کے دروازے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنایاجائے،اور طاقت کوہمیشہ حکمت کے تابع رکھاجائے کیونکہ تاریخ کے میدان میں اصل فتح وہ نہیں جومیدانِ جنگ میں حاصل ہو،بلکہ وہ ہے جومیدانِ عقل،تدبراوربصیرت میں حاصل کی جائے۔قوموں کی عظمت کاپیمانہ صرف ان کی عسکری قوت نہیں بلکہ ان کی یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ اپنی طاقت کوامن،استحکام اورانسانی بقاکیلئے استعمال کریں۔اسی حقیقت میں جنوبی ایشیا کے مستقبل کا رازپوشیدہ ہے:توازن قائم رہے،تدبرغالب رہے، اورجوہری صلاحیت خوف کی علامت نہیں بلکہ امن کی ضمانت بن جائے۔