سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
22/اپریل2025کوبھارتی کشمیرمیں ہندوسیاحوں پرفالس فلیگ حملے کے بعد،بھارت نے پاکستان پراس حملے کاالزام عائدکیا۔اس کے ردعمل میں،7 مئی2025کو بھارت نے’’آپریشن سندور‘‘کے تحت آزادکشمیرمیں9مقامات پرمیزائل حملے پاکستان اورآزادکشمیرمیں مساجد اورعام شہریوں کونشانہ بناتے ہوئے جن میں خواتین اوربچے شامل ہیں۔پاکستان کے مطابق ان حملوں میں31افرادہلاک ہوئے،جن میں خواتین اوربچے بھی شامل ہیں، اور متعددمساجداورتعلیمی ادارے بھی متاثرہوئے۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے پرڈرون حملوں اور فضائی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔بھارت نے پاکستان کے اندرمتعددمقامات پرفضائی حملے کیے،جن میں لاہورمیں واقع ایک چینی ساختہ’’ایچ کیو،9بی ای‘‘فضائی دفاعی نظام بھی شامل تھا،جس کی آزاد ذرائع نے بھی نفی کردی ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کاکہناہے کہ انڈیانے پہلے دن چھ مقامات پرمختلف اسلحہ استعمال کرتے ہوئے مجموعی طورپر24حملے کیے تھے۔پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انڈیاکے پہلے دن کے میزائل حملوں کے بعدجوابی کارروائی میں پاکستان نے انڈین فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے اورایک ڈرون مارگرانے کے شواہدپیش کردیئے۔واضح رہے کہ یہ پہلاموقع نہیں جب انڈیاکی جانب سے کوئی میزائل پاکستان سرزمین پرآگراہو۔مارچ2022میں بھی انڈیاکی جانب سے ایک براہموس میزائل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہرمیاں چنوں کے قریب آگراتھا۔تاہم اس میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہواتھا۔
اگرچہ انڈیانے اس واقعے کے متعلق جاری بیان میں کہاتھاکہ یہ میزائل حادثاتی طورپرپاکستان کی طرف داغاگیاتھاجبکہ پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل بابرافتخارنے ذرائع ابلاغ کوتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاتھاکہ پاکستان حدودمیں داخل ہونے والا’’انڈین پروجیکٹائل‘‘زمین سے زمین تک مارکرنے والاسپرسونک میزائل تھا۔پاکستان نے دعوی کیاتھاکہ ابتدائی جانچ پڑتال سے معلوم ہواکہ یہ میزائل سپرسونک کروزمیزائل تھاجوآوازکی رفتارسے تین گنا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اوریہ پاکستان کی حدود میں تین منٹ44سیکنڈتک رہنے کے بعدگرکرپاکستان کی سرحدمیں 124 کلو میٹراندرآکرتباہ ہوا۔پاکستانی عسکری ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیاتھاکہ پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے اس میزائل کی نگرانی تب سے شروع کردی تھی جب اسے انڈیاکے شہرسرساسے داغاگیاتھا۔اس کی پروازکے مکمل دورانیے کامسلسل جائزہ لیاگیا۔
2019میں بالاکوٹ حملے اورانڈین طیارہ گرائے جانے کے بعددونوں ملکوں نے نیادفاعی سازوسامان خریداہے۔جیسے انڈین ایئرفورس کے پاس اب36فرانسیسی ساختہ رفال جنگی طیارے ہیں۔پاکستانی فوج کادعویٰ ہے کہ انہوں نے حالیہ حملے میں جوابی کارروائی کے دوران تین رفال طیاروں سمیت پانچ طیارے مارگرائے ہیں اوراب تک79ڈرون بھی گرائے گئے ہیں جس میں اسرائیلی ڈرون ہاروپ بھی شامل ہیں جن کودنیامیں ناقابل تسخیرسمجھاجاتاتھالیکن پاکستان نے یہودہنودکاغرورخاک میں ملاکررکھ دیاہے۔تاہم انڈیا نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے.
لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیزکے مطابق اسی دورانیے میں پاکستان نے چین سے کم ازکم20جدیدجے10جنگی طیارے حاصل کیے ہیں جوکہ پی ایل 15میزائلوں سے لیس ہیں۔جہاں تک ایئرڈیفنس کی بات ہے تو2019کے بعدانڈیانے روسی ایس400اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم حاصل کیاجبکہ پاکستان کوچین سے ایچ کیو9فضائی دفاعی نظام ملاہے جبکہ پاکستانی فضائیہ کے پاس اپنی فضائی صلاحیتوں میںایڈوانسڈایریل پلیٹ فارمز،ہائی ٹو میڈیم ایلٹیٹوڈایئرڈیفنس سسٹم،بغیرپائلٹ کامبیٹ ایریل وہیکلز،سپیس،سائبر، الیکٹرانک وارفیئراورمصنوعی ذہانت سے چلنے والے سسٹمزموجود ہیں۔
انڈیاکے پاکستان پراس حملے کے بعدچند اہم سوالات پیداہوئے ہیں کہ کیاپاکستان کافضائی دفاعی نظام انڈیاکی جانب سے آنے والے میزائلوں کوبڑی حدتک روکنے کی صلاحیت رکھتاہے؟اوریہ کہ پاکستان انڈین فضائی حدود سے داغے گئے میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے قبل فضامیں ہی تباہ کیوں نہیں کرپایا؟
پاکستان کے فضائی دفاعی نظام میں چینی ساختہ ’’ایچ کیو،9بی ای‘‘شامل ہیں۔’’ایچ کیو،9بی ای‘‘سسٹم 260کلومیٹرتک کی رینج میں لڑاکاطیاروں کونشانہ بناسکتاہے اور50کلو میٹر تک کی رینج میں فضائی سے زمین پرمارکرنے والے میزائلوں کوروکنے کی صلاحیت رکھتاہے تاہم،حالیہ بھارتی حملوں میں لاہورمیں واقع’’ایچ کیو،9بی ای‘‘سسٹمزکونشانہ بنایاگیا،جس سے پاکستان کے فضائی دفاعی نظام کونقصان پہنچانے کادعویٰ کیاگیاجس کی ابھی تک کسی بھی ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔پاکستان کے پاس جدیدفضائی دفاعی نظام موجودہیں،جن میں چین سے حاصل کردہ پی ایل15میزائل شامل ہیں۔یہ میزائل150کلومیٹرسے زائدفاصلے پرہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اورجے ایف17 جیسے جدیدلڑاکاطیاروں پرنصب کیے جاسکتے ہیں تاہم بھارت نے اپنے ایس400دفاعی نظام کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے میزائل اورڈرون حملوں کوناکام بنانے کادعویٰ کیاہے۔
پی ایل 15میزائل ایک جدیدچینی ساختہ فضاسے فضامیں مارکرنے والامیزائل ہے،جو150کلومیٹرسے زائدفاصلے پرہدف کونشانہ بنا سکتاہے۔یہ میزائل پاکستان کے جے ایف 17بلاک 3طیاروں پرنصب کیے گئے ہیں اوربھارت کے جنگی طیاروں کے خلاف مؤثرثابت ہوسکتے ہیں ۔پاکستان نے حالیہ جھڑپوں میں چینی ساختہ’’ای ایل-15ای‘‘ فضا سے فضامیں مارکرنے والے میزائلوں کااستعمال کیاہے۔یہ میزائل145 کلومیٹرتک کی رینج میں ہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اورجدید’’اے ای ایس ایــ‘‘ریڈار سے لیس ہیں۔پاکستانی’’ایف17 بلااک3اورجے،10سی‘‘طیاروں پرنصب یہ میزائل بھارتی رافیل اوردیگرلڑاکاطیاروں کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
پی ایل15چین کاجدید ترین میزائل ہے۔بی وی آر(بی یانڈ ویشول رینج)ریڈارگائیڈڈسسٹم کوپاکستان نے اپنے طیاروں پرنصب کررکھاہے علاوہ ازیں آسٹامیزال جوڈیڑھ سے دوسوکلومیٹرریجن رکھتاہے جوعام میزائل سے کہیں زیادہ مثرسمجھاجاتاہے۔فضائی برتری حاصل کرنے کیلئییہ میزائل پاکستان کیلئیگیم چینجرہے،خاص طورپرجب دشمن کے طیارے پاکستانی حدودسے باہرہوں۔
پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت نے بھارت کے حملوں کو’’بزدلانہ‘‘قراردیتے ہوئے جوابی کارروائی کاعندیہ دیاہے۔عوامی سطح پربھی جوابی کارروائی کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جھڑپوں اوربیانات نے خطے میں مکمل جنگ کے خدشات کوبڑھادیاہے۔پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے بھارتی حملوں کو"جنگی اقدام‘‘قراردیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اس کابھرپورجواب دے گا۔بھارت نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کوبڑھادیاہے،جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہواہے۔
اقوام عالم میں خطرہ کی گھنٹی بج چکی ہے اوروہ فکرمند ہیں کہ کیایہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف جاسکتی ہے؟جبکہ دونوںایٹمی طاقتیں اپنی افواج ہائی الرٹ پررکھ چکی ہیں۔پاکستانی وزیر اعظم شہبازشریف نے’’فیصلہ کن ردعمل‘‘کی بات کی ہے۔بھارت نے بھی اپنے شمالی کمان کوریڈ الرٹ کردیاہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان نے واضح اعلان کیاہے کہ پاکستان ہرصورت اپنے شہریوں کی ہلاکت کاجواب ضروردے گاجوان کی قومی ذمہ داری بھی ہے،اس کیلئے پاکستان جگہ اوروقت کاانتخاب خودکرے گااورپاکستان کے جواب کی گونج بھی ساری دنیامیں سنائی دے گی جس کے جواب میں بھارتی ترجمان نے بھی ایساہونے کی صورت میں مکمل جنگ کے خطرہ بڑھ جانے کی دہمکی دی ہے۔اگردیکھاجائے تو بھارت تومکمل جنگ شروع کرچکاہے۔گویااب کبھی کوئی فیصلہ کن موڑان ایٹمی طاقت کے حامل ملکوں کواس خطرہ کی طرف لیجاسکتاہے۔
انڈیاکے سابق ہائی کمشنراجے بساریاکاکہناہے:پاکستان کاردعمل ضرورآئے گا۔اصل چیلنج یہ ہوگاکہ اس کے بعدبڑھتی ہوئی کشیدگی کو کیسے سنبھالاجائے۔یہی وہ وقت ہوگاجب بحران سے بچانے والی سفارتکاری اہم کردارادا کرے گی۔پاکستان کوضبط اورتحمل سے کام لینے کامشورہ دیاجائے گالیکن پاکستان کے جوابی حملے کے بعداصل کامیابی اس وقت کی سفارتی کوششوں میں ہوگی تاکہ دونوں ممالک کسی بڑے فوجی تصادم کی طرف نہ بڑھیں۔ایک اورسیاسی اوردفاعی تجزیہ نگارکاکہناہے کہ انڈیاکی جانب سے مریدکے اور بہاولپور جیسے مقامات پرسرجیکل اسٹرائیکسموجودہ حالات کے پیش نظرمتوقع تھیں۔تاہم پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان بہت زیادہ ہے۔
ایک امریکی دفاعی تجزیہ نگار کے مطابق’’پاکستانی فوج کے بیانات اوراس کے حساب چکانے‘‘کے عزم کودیکھتے ہوئے،یہ کہاجا سکتاہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحدپارجوابی حملے ممکنہ طورپراگلے چنددنوں میں کیے جاسکتے ہیں۔تاہم خدشہ ہے کہ دونوں جانب سے ایسے محدودحملے ایک محدودروایتی جنگ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔(جاری ہے)