سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ واقعہ اس بنیادی حقیقت کی یاددہانی تھاکہ جوہری طاقت کااصل امتحان صرف ہتھیاررکھنے میں نہیں بلکہ بحران کے لمحات میں ضبط،دانش مندی اورذمہ دارانہ طرزِعمل اختیارکرنے میں ہوتاہے۔جنوبی ایشیاکاامن اسی نازک توازن سے وابستہ ہے جہاں ایک طرف دفاعی تیاری ناگزیرہے،تودوسری جانب جنگ سے گریز،مکالمے اورتدبرکی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔یہی توازن اس خطے کوتباہی کے اندھیروں سے بچاکرامن اوراستحکام کی سمت لے جا سکتا ہے۔
انڈیاکی موجودہ دفاعی حکمتِ عملی اب محض روایتی زمینی یافضائی صلاحیتوں تک محدودنہیں رہی بلکہ اس نیایک وسیع ترتزویراتی دائرے کی شکل اختیارکرلی ہے۔کنسترائزیشن کے ذریعے میزائل نظام کوزیادہ محفوظ،متحرک اورفوری استعمال کے قابل بنانا،آبدوزی جوہری صلاحیت میں اضافہ، اورطویل فاصلے تک مار کرنیوالے بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ انڈیااپنے دفاعی ڈھانچے کوایک نئی جہت دے رہاہے۔یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ انڈیا کی جوہری حکمتِ عملی اب صرف قریبی علاقائی خطرات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے مقاصدمیں وسیع ترتزویراتی رسائی اورعالمی طاقت کے توازن میں زیادہ نمایاں کرداراداکرنے کی خواہش بھی شامل ہے۔خاص طورپر طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل نظام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انڈیااپنی دفاعی صلاحیتوں کوایسے خطوط پراستوار کررہاہے جہاں وہ جنوبی ایشیاکی حدودسے آگے بھی اثراندازہونے کی قابلیت حاصل کرسکے۔
آبدوزی جوہری صلاحیت کافروغ اس حکمتِ عملی کاایک اہم پہلوہے،کیونکہ سمندرمیں موجودجوہری پلیٹ فارم کسی بھی ملک کو دوسری جوابی کارروائی کی زیادہ مضبوط صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیاکی بڑی جوہری طاقتیں بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں سمندری صلاحیت کوبنیادی اہمیت دیتی ہیں۔یوں انڈیاکی میزائل ٹیکنالوجی،آبدوزی نظام اورطویل فاصلے کی صلاحیتوں میں اضافہ محض عسکری جدید کاری کاعمل نہیں بلکہ ایک ایسے تزویراتی سفرکی علامت ہے جس میں جنوبی ایشیا کاخطہ اب عالمی طاقتوں کے بڑے کھیل کاحصہ بنتاجارہاہے۔اس صورتحال میں خطے کے تمام ممالک کیلئے ضروری ہوجاتاہے کہ وہ طاقت کے حصول کے ساتھ ساتھ توازن،ذمہ داری اورامن کے تقاضوں کوبھی پیشِ نظررکھیں۔
پاکستان نے بارہاواضح کیاہے کہ وہ ہتھیاروں کی اندھی دوڑکاحصہ بننے کی خواہش نہیں رکھتا،بلکہ اس کی جوہری حکمتِ عملی کا بنیادی مقصدخطے میں تزویراتی توازن برقراررکھنااورکسی بھی ممکنہ جارحیت کوروکنے کیلئے قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت قائم رکھنا ہے۔پاکستان کامؤقف یہ ہے کہ طاقت کااصل مقصد جنگ کوممکن بنانانہیں بلکہ جنگ کے امکان کوکم کرناہوتا ہے ۔ اسی تناظر میں پاکستان کی پالیسی یعنی قابلِ اعتمادکم سے کم بازدارصلاحیت کے اصول پرمبنی ہے۔اس حکمتِ عملی کے تحت مقصد ہتھیاروں کی تعدادمیں غیرضروری اضافہ نہیں بلکہ اتنی مؤثرصلاحیت برقراررکھناہے جوکسی بھی مخالف کوجارحانہ اقدام سے قبل اس کے ممکنہ نتائج پرغور کرنے پرمجبورکرے۔یہ پالیسی دراصل طاقت کے حصول اوروسائل کے دانش مندانہ استعمال کے درمیان ایک توازن کی نمائندگی کرتی ہے۔پاکستان کے نزدیک قومی سلامتی کاتقاضا یہ نہیں کہ وہ لامحدودعسکری مقابلے میں داخل ہو،بلکہ یہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجودایک ایسی دفاعی صلاحیت برقراررکھی جائے جوعلاقائی استحکام،خودمختاری اورقومی دفاع کی ضمانت فراہم کرسکے۔یوں پاکستان کی جوہری حکمتِ عملی کامحور تعداد نہیں بلکہ توازن،مقابلہ نہیں بلکہ بازدارقوت،اورجارحیت نہیں بلکہ دفاعی تحفظ کاتصور ہے۔
جنوبی ایشیاکے جوہری منظرنامے میں عالمی برادری کاکردارمحض مشاہدہ کرنے یاتشویش کے رسمی بیانات تک محدودنہیں رہ سکتا، بلکہ اس پرایک بڑی ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ خطے میں تزویراتی توازن،عدمِ پھیلاؤاورپائیدارامن کے اصولوں کوفروغ دے۔پاکستان نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیاہے کہ وہ انڈیاکی جوہری صلاحیتوں میں ہونے والی پیش رفت،جدیدہتھیاروں کی تیاری اوران کی ممکنہ علاقائی وعالمی اثرات کاباریک بینی سے جائزہ لیں۔جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اگروسیع ترسلامتی کے تقاضوں،شفافیت اور ذمہ دارانہ نگرانی کے بغیرکی جائے تویہ نہ صرف علاقائی طاقت کے توازن کومتاثرکرسکتی ہے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی نئے چیلنجزپیدا کرسکتی ہے۔طاقتورممالک کی ذمہ داری صرف عسکری تعاون یاٹیکنالوجی کی فراہمی تک محدودنہیں ہونی چاہیے، بلکہ انہیں اس امرکوبھی پیشِ نظررکھنا چاہیے کہ ان اقدامات کے دوررس نتائج کیاہوں گے۔
پاکستان کی اپیل دراصل محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ عالمی ضمیرکومتوجہ کرنے کی ایک کوشش ہے کہ جنوبی ایشیاجیسے حساس خطے میں طاقت کے توازن کوبرقراررکھناپوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔کیونکہ جوہری دورمیں امن صرف ہتھیاروں کے توازن سے نہیں بلکہ ذمہ دارانہ طرزِعمل، شفافیت اورباہمی اعتمادکیفروغ سے قائم رہ سکتاہے۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کے پاس تقریبا190جوہری وارہیڈزجبکہ پاکستان کے پاس170وارہیڈزموجودہیںتاہم ان اعدادوشمارکوحتمی اورمکمل حقیقت سمجھنادرست
نہیں ہوگا،کیونکہ جوہری صلاحیتوں سے متعلق معلومات اکثرخفیہ رکھی جاتی ہیں اورعالمی اداروں کے تخمینے عمومادستیاب اوپن سورس معلومات،سیٹلائٹ جائزوں اورتجزیاتی اندازوں پرمبنی ہوتے ہیں۔
جوہری طاقت کاحقیقی اندازہ صرف وارہیڈزکی تعدادسے نہیں لگایاجاسکتا،بلکہ اس کیلئے کئی دیگرعوامل کوبھی پیشِ نظررکھناضروری ہوتاہے،جن میں ہتھیاروں کی تیاری کی سطح،ان کی تعیناتی کاطریقہ،میزائل نظام کی صلاحیت،کمانڈاینڈکنٹرول کاڈھانچہ،اورفوری ردِعمل کی استعداد شامل ہیں۔ایک کم تعدادمیں موجودمگرزیادہ مؤثراورمحفوظ نظام بعض اوقات زیادہ تعدادکے مقابلے میں زیادہ اہم تزویراتی حیثیت رکھتاہے۔اسی لیے اعدادکے پیچھے اصل کہانی صرف گنتی کی نہیں بلکہ صلاحیت،حکمتِ عملی اورارادوں کی ہوتی ہے۔جنوبی ایشیا کے جوہری منظرنامے میں اعدادوشماراپنی جگہ اہم ہیں،مگراصل سوال یہ ہے کہ یہ صلاحیتیں کس مقصد کیلئے،کس نظریے کے تحت اور کس توازن کوبرقراررکھنے کیلئے استعمال کی جارہی ہیں۔یوں سپری کے تخمینے خطے کی جوہری صورتحال کوسمجھنے کیلئے ایک اہم حوالہ ضرور فراہم کرتے ہیں،لیکن مکمل تصویرکوسمجھنے کیلئے ان اعدادکے ساتھ ساتھ تزویراتی سوچ،دفاعی پالیسیوں اورعلاقائی سلامتی کے وسیع ترتناظرکوبھی مدِنظررکھنا ناگزیرہے۔
پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے محدود معاشی وسائل کے باوجوداپنی دفاعی صلاحیتوں کواس سطح تک ترقی دی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کامؤثرجواب دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ خوداعتمادی محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ برسوں کی سائنسی تحقیق،دفاعی منصوبہ بندی اورعملی تجربات سے پیدا ہونے والااعتمادہے۔پاکستان نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں تعدادکی بجائے معیار،خودانحصاری اورمؤثریت کوبنیادی اہمیت دی ہے۔محدودوسائل کے باوجوداس نے ایک ایسادفاعی نظام تشکیل دیاجونہ صرف مؤثرہے بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خودکوڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔خاص طورپرمیزائل ٹیکنالوجی،نگرانی کے نظام اورفوری ردِعمل کی صلاحیتوں میں ترقی نے پاکستان کوایک قابلِ اعتبار دفاعی قوت کے طورپرنمایاں کیاہے۔
پاکستانی دفاعی فلسفے کی بنیاداس تصورپرقائم ہے کہ قومی سلامتی صرف وسائل کی کثرت سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی،تکنیکی مہارت اوردرست فیصلوں سے مضبوط ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان نیاپنی صلاحیتوں کواس اندازمیں ترتیب دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے میں مؤثربازدارقوت برقراررکھ سکے۔یوں پاکستانی دفاعی سوچ دراصل’’سادگی میں طاقت‘‘کے اس اصول کی عکاسی کرتی ہے جس میں مقصد غیرضروری مقابلہ نہیں بلکہ ایک ایسامتوازن اورقابلِ اعتماد دفاعی ڈھانچہ قائم کرناہے جوقومی خود مختاری اورعلاقائی استحکام کے تحفظ میں اپناکرداراداکرسکے۔(جاری ہے)