غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے جاری، صحافی سمیت مزید49فلسطینی شہید،متعدد زخمی

 جبالیہ کے ایک سکول پر بمباری سے 17، المواصی میں قائم عارضی خیمہ بستی پر حملے میں 3فلسطینی شہید ہوئے، النصر ہسپتال پر بھی صہیونی طیاروں کا حملہ
 حماس اور امریکی انتظامیہ کے درمیان غزہ جنگ بندی معاہدہ ، ایک امریکی قیدی رہا ، امریکا ہی اسرائیل کو غزہ میں جنگ روکنے پر مجبور کر سکتا ہے، فلسطینی نائب صدر 
 غزہ؍نیویارک (آئی این پی )اسرائیل نے غزہ کے النصر ہسپتال پر حملہ کردیا ، اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں گذشتہ 24گھنٹوں میں ایک صحافی سمیت  مزید49فلسطینی شہید کردئیے گئے۔دوسری جانب حماس اور امریکی انتظامیہ کے درمیان غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا۔ عرب میڈیا کے مطابق جبالیہ کے ایک سکول پر بمباری سے17افراد جاں بحق ہوئے جبکہ المواصی کے علاقے میں قائم ایک عارضی خیمہ بستی پر حملے میں 3فلسطینی شہید ہوئے۔   اسرائیل نے اپنی جارحیت کو جاری رکھتے ہوئے غزہ کے النصر ہسپتال پر حملہ بھی کیا، اسرائیل نے ہسپتال میں حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہونے کے دعوے کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔دوسری جانب حماس اور امریکی انتظامیہ کے درمیان غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا جبکہ حماس نے ایک امریکی قیدی کو رہا کر دیا۔ ادھر فلسطین نے کہا ہے کہ امریکا واحد فریق ہے جو اسرائیل کو غزہ میں جنگ روکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ فلسطینی ریاست کے حصول کا بہترین راستہ مسلح جدوجہد نہیں پرامن مزاحمت ہے، ہم اپنے حقوق کے حصول اور اپنی ریاست بنانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری ترجیح فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین پر محفوظ بنانا ہے۔