بقا ء کی آخری امیدیں بھی ختم کی جا رہی ہیں، غزہ میں ایندھن نہ پہنچنے دیا گیا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے،گوتریس
غزہ؍نیویارک (آئی این پی ) اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری ہیں،صیہونی فورسز کے فضائی حملوں میں فٹبالر سمیت مزید 29فلسطینی شہید جبکہ 20سے زائد زخمی ہوگئے، 24گھنٹے میں 118افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں سکول پر بمباری کی اور امداد کے منتظر افراد کو بھی نشانہ بنایا۔ جبکہ خدامت المغازی فٹبال کلب کے کھلاڑی مہند اللیلی اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے مہند اللیلی کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر ) پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہند ایک باصلاحیت کھلاڑی تھے اور خدامت المغازی کلب کا اہم حصہ تھے۔تنظیم نے مزید انکشاف کیا کہ 7اکتوبر 2023سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک مختلف کھیلوں سے وابستہ 585فلسطینی کھلاڑی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 265فٹبالر شامل ہیں۔فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے عالمی فٹبال تنظیم فیفا (فیفا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور جنگی جرائم کی مرتکب اسرائیلی فٹبال ٹیم پر عالمی سطح پر پابندی عائد کرے۔عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی کھلاڑیوں کے تحفظ کیلئے مثر اقدامات کرے اور غزہ میں کھیلوں کے شعبے کو تباہی سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔دریں اثناء سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ غزہ میں بقاء کی آخری امیدیں بھی ختم کی جا رہی ہیں، غزہ میں ایندھن نہ پہنچنے دیا گیا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے، ایندھن کی عدم فراہمی سے نوزائیدہ بچوں کیلئے انکیوبیٹر بند ہوجائیں گے۔