لارڈز: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی جانب سے دفاعی حکمت عملی اپنانے پر سابق آسٹریلوی اوپنر متھیو ہیڈن اور جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
لارڈز کے تاریخی میدان پر جاری فائنل میچ کے تیسرے روز جنوبی افریقہ نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 213 رنز بنا لیے ہیں اور انہیں فتح کے لیے صرف 69 رنز درکار ہیں، جب کہ ان کی 8 وکٹیں باقی ہیں۔ کریز پر اس وقت ایڈن مارکرم 102 اور کپتان ٹیمبا باوما 65 رنز کے ساتھ موجود ہیں۔
دفاعی حکمت عملی، آسٹریلیا کے لیے نقصان دہ
آسٹریلیا نے پہلے اور دوسرے دن کے کھیل پر اپنا غلبہ قائم رکھا، لیکن تیسرے روز جنوبی افریقی بیٹرز کی شاندار مزاحمت نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے جارحانہ باولنگ یا فیلڈنگ سیٹ اپ کی بجائے دفاعی انداز اختیار کیا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔
متھیو ہیڈن کی رائے
سابق اوپنر متھیو ہیڈن نے دورانِ کمنٹری کہا:"آپ کسی ٹیم کو دباؤ میں لائے بغیر میچ نہیں جیت سکتے۔ پیٹ کمنز کو مارکرم اور باوما پر پریشر بنانا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے ان دونوں سیٹ بیٹرز کو آسانی سے کھیلنے دیا۔ یہ فائنل ہے، یہاں رسک لینا پڑتا ہے۔"
ڈیل اسٹین کا تبصرہ
جنوبی افریقی لیجنڈ فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے بھی پیٹ کمنز کی حکمت عملی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"مجھے حیرانی ہے کہ کمنز نے شارٹ کور، شارٹ مڈ وکٹ اور دیگر قریبی پوزیشنز کیوں نہیں لگائیں؟ اگر آپ کو وکٹیں لینی ہیں تو بیٹرز پر دباؤ بڑھانا ضروری ہے۔ لیکن آسٹریلیا نے انتہائی دفاعی انداز اختیار کیا جس کا جنوبی افریقی بلے بازوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔"
میچ کا تناظر
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا یہ فائنل جنوبی افریقی ٹیم کی تاریخی جیت کے قریب ہے، اگر وہ 69 مزید رنز بغیر وکٹیں گنوائے حاصل کر لیتے ہیں تو وہ اپنی پہلی ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت جائیں گے۔ دوسری جانب، آسٹریلیا کے پاس اب بھی میچ میں واپسی کا موقع موجود ہے، بشرطیکہ وہ جارحانہ انداز اپنائیں۔