اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ آرمی چیف سمیت3 کمانڈر ‘6 جوہری سائنسدان‘78شہری شہید
درجنوں مقاما ت پر حملے کئے گئے‘ حملوںمیں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور محافظ کمانڈر شمخانی سمیت متعدد فوجی کمانڈرزشہید
ایران کا جوابی وار، اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز سے حملہ کر دیا، اسرائیل مختلف ممالک سے گزرنے والے ڈرونز کوتباہ کرتا رہا‘ اسرائیلی بھر میں ہنگامی حالت نافذ، نیتن یاہو نامعلوم مقام پر منتقل
حملے تب تک جاری رکھے جائیں گے جب تک اسرائیل کی بقا کیلئے موجود خطرہ ختم نہیں ہو جاتا:اسرائیلی وزیراعظم‘ ہمارے ساتھ جنگ چھیڑنا شیر سے کھیلنے کے مترادف، اسرائیل سے انتقام لیں گے: ایرانی صدر
تہران،تل ابیب،واشنگٹن (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )اسرائیل نے ایران پربڑا فضائی حملہ کرتے ہوئے اسکے جوہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے جسے ’’ آپریشن رائزنگ لائن‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اور محافظ کمانڈر شمخانی سمیت متعدد فوجی کمانڈرز، 6 جوہری سائنسدان اور 78 شہری شہید ہو گئے، ایران نے بھی بھرپور جوابی وار کرتے ہوئے اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز سے حملہ کر دیا، اسرائیلی بھر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران میں200طیاروں کے ذریعے درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے ، دارالحکومت تہران کے شمال مشرقی علاقے میں بھی دھماکوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئیے۔ایرانی ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی آرمی چیف جنرل محمد باقری بھی حملے میں شہید ہوچکے ہیں، پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل حسین سلامی شہید ہوگئے، پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈرغلام علی راشد شہید ہوگئے، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر تہرانچی ڈاکٹر فریدون عباسی بھی شہید ہوگئے، القدس فورس کے سینئر کمانڈراسماعیل قانی بھی شہید ہوگئے،ایرانی جوہری پروگرام کے سربراہ علی شمخانی بھی شہید ہو گئے ہیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران کے رہائشی علاقے پر اسرائیلی حملے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ پچاس سے زیادہ شہری زخمی بتائے گئے ہیں۔ایرانی میڈیا نے دارالحکومت تہران کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں پر حملے کی تصدیق کر دی۔ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے نطنز میں جوہری تنصیبات کونشانہ بنایا جب کہ تبریز اور احواز میں بھی حملے کیے گئے۔ ایران کی مسلح افواج کے ایک ترجمان نے اسرائیلی کاروائی پر ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کے دل کو نشانہ بنایا گیا ہے ، یہ حملے تب تک جاری رکھے جائیں گے جب تک اسرائیل کی بقا کے لیے موجود خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران پر حملے آپریشن رائزنگ لائنز کے تحت کیے گئے۔ جو اسرائیل کی بقا کے خلاف ایرانی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا آپریشن ہے ۔یہ آپریشن اتنے دن تک جاری رہے گا جب تک اس کے پھیلائو کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ۔ اسرائیل نے حملوں کے دوسرے حصے میں ایران کے شہر تبریز اور شیراز پر حملے کئے جن میں ائیر بیسز کو نشانہ بنایاگیاہے جبکہ نطنز جوہری تنصیب پر بھی تازہ حملہ کیا گیا ہے‘ایران کے صدر پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنا شیر سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے رات کے اندھیرے میں ہمارے وطن پر جارحیت کی جس کے نتیجے میں ہمارے متعدد شہری، فوجی جنرل اور سائنسدان شہید ہوئے اور یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ ایک پاگل جانور کی طرح بین الاقوامی حقوق کے دعوے داروں کی نظروں کے سامنے بے شرمی کے ساتھ حملے کئے ۔انہوں نے کہا ایران نے گزشتہ 200 سال میں کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا، انتقام اور دفاع ہمارا قانونی اور جائز حق ہے، وطن کے دفاع میں نہ پہلے کبھی ہچکچاہٹ کی اور نہ آئندہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر اپنی عزت اور وجود کا دفاع کریں گے لیکن عالمی اداروں کے منتظر بیٹھے نہیں رہیں گے اور باذن اللہ انتقام کا لمحہ قریب اور صیہونیوں کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہے۔