شہدا کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، مولانا کے بیان سے اتفاق نہیں: بیرسٹر گوہر

شہدا کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، مولانا کے بیان سے اتفاق نہیں: بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ شہدا پوری قوم کے ہیرو ہیں اور انہیں سیاسی مباحث کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کی شہدا سے متعلق گفتگو سے اتفاق نہیں کرتے اور سیاست دانوں کو جوشِ خطابت میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے۔راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور پاکستان کے شہدا نے ملک کے دفاع کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور دنیا کی کوئی دولت ان کی قربانیوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کا مؤقف پہلے دن سے واضح ہے اور پوری قوم کو اس چیلنج کے خلاف متحد رہنا چاہیے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بی ایل اے اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور بھارت پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے پارٹی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں موجودہ نظام سے مایوس ہیں، اسی لیے وہ احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، جو ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست سے متعلق تحریک کا فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی اور سیاسی کمیٹیاں کریں گی۔

آزاد کشمیر کی صورتحال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف کسی بیانیے کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات کی حمایت کی، تاہم واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے خون خرابے کے خلاف ہیں اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔افغانستان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا، تاہم اگر افغان سرزمین پاکستان دشمن عناصر کے لیے استعمال ہوتی ہے تو یہ تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک سے مطالبہ کرے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقاتوں کی بحالی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ملاقاتیں نہ ہونے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے علیمہ خان کے مقدمے کا فیصلہ جلد بازی میں نہ کرنے کی بھی اپیل کی۔