کراچی: سینئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے مولانا فضل الرحمان سے شہدا سے متعلق اپنے بیان پر نظرثانی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الفاظ واپس لینے سے ان کی عزت کم نہیں ہوگی بلکہ سیاسی اور عوامی سطح پر ان کا مقام مزید بلند ہوگا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاک فوج کے شہدا کا مقام بہت بلند ہے، جان قربان کرنا کوئی معمولی بات نہیں، فوجی جوانوں کے والدین اپنے بچوں کو ایک جذبے کے تحت ملک کی خدمت کے لیے بھیجتے ہیں اور اس جذبے کی قیمت کسی تنخواہ سے نہیں لگائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر اور تجربہ کار سیاستدان ہیں، انہیں اپنے بیان پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ ایسے بیانات سے شہدا کے خاندانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کے بیان سے شہدا کا مقام کم نہیں ہو سکتا، تاہم ایسے بیانات سے دشمن کو فائدہ پہنچتا ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ مولانا کے بیان کو بھارتی میڈیا پر بھی نمایاں کیا گیا، جس سے بھارت کو پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ملک کا اہم حصہ ہیں اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کا دشمن ہے اور اسے پاکستانی افواج نے شکست دی۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران پوری قوم نے اپنا کردار ادا کیا، ماؤں نے دعائیں کیں، نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر ملک کا دفاع کیا جبکہ افواج نے میدان میں مقابلہ کیا۔
گندم ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی
شرجیل میمن نے صوبے میں گندم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی پالیسیوں کے باعث اس سال گندم کی پیداوار بہتر رہی، تاہم فصل آنے کے بعد منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے گندم چھپانے کی کوشش کی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران 17 لاکھ ٹن گندم برآمد کی گئی ہے اور ضبط شدہ گندم سرکاری نرخ کے مطابق خریدی جائے گی۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کیا کہ وہ گندم سرکاری گوداموں میں جمع کروا دیں۔سینئر وزیر نے کہا کہ چھاپوں اور کارروائیوں کے بعد آٹے کی قیمت میں 13 روپے فی کلو کمی آئی ہے۔
پانی اور صوبائی معاملات پر مؤقف
شرجیل میمن نے سندھ میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو متعدد خطوط لکھے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ارسا کی ذمہ داری ہے کہ معاہدوں کے مطابق تمام صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے۔
وفاق، سندھ اور ترقیاتی منصوبے
شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کی بنیاد ہے لیکن سندھ میں وفاقی سطح پر بڑے موٹر وے منصوبے نظر نہیں آ رہے، جو صوبے اور ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال موجود ہیں جبکہ صوبائی حکومت عوامی سہولت کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال کے دھرنے پر ردعمل
سینئر وزیر نے مصطفیٰ کمال کے دھرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو پہلے وفاقی وزارت سے استعفیٰ دیں اور اپنی نشست چھوڑ کر ضمنی انتخابات کا سامنا کریں، جس سے عوامی حمایت کا اندازہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت سیاسی تصادم نہیں بلکہ استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی، عسکری اور معاشرتی حلقوں کو ملکی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔