فیفا ورلڈ کپ میں متنازع ریفری فیصلوں پر نئی بحث، وی اے آر بھی تنقید کی زد میں

فیفا ورلڈ کپ میں متنازع ریفری فیصلوں پر نئی بحث، وی اے آر بھی تنقید کی زد میں

فیفا ورلڈ کپ میں ریفری کے متنازع فیصلوں اور وی اے آر (VAR) کے استعمال پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ سابق فیفا ریفری کرسٹینا انکل نے نئے ریفری پروٹوکول پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ارجنٹینا کی سیمی فائنل تک رسائی کے دوران مخالف ٹیموں نے متعدد ریفری فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی زیرِ بحث آیا کہ ٹورنامنٹ میں لیونل میسی کی ٹیم کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔کوارٹر فائنل میں سوئٹزرلینڈ کے اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو مبینہ ڈائیونگ پر دوسرا یلو کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجنے کے فیصلے کو سوئس کوچ مرات یاکین نے ناقابل قبول قرار دیا۔کرسٹینا انکل کے مطابق نئے وی اے آر پروٹوکول کے تحت ریفری کے ابتدائی فیصلوں میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے، جو ان کے خیال میں وی اے آر کے اصل مقصد سے ہٹ کر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کو مکمل آزمائش کے بغیر نافذ کرنے سے شائقین کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب فیفا نے جانبداری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اپنے ریفری سربراہ پیئرلوئیجی کولینا کے سابق مؤقف کا حوالہ دیا۔کرسٹینا انکل کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے نزدیک بیشتر فیصلے درست تھے، تاہم حالیہ تنازعات اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ مختلف انداز میں برتاؤ نے شائقین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔