2026ء کے فیفا ورلڈ کپ میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے فیصلے ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئے ہیں، خصوصاً دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور اس کے کپتان لیونل میسی سے متعلق فیصلوں پر سوشل میڈیا پر شدید بحث جاری ہے۔
متعدد صارفین کا دعویٰ ہے کہ وی اے آر کے فیصلوں میں ارجنٹینا کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، تاہم غیر ملکی میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس بحث کو ایک مختلف زاویہ دیتے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کی جانب سے گروپ مرحلے سے لے کر راؤنڈ آف 16 تک کے وی اے آر فیصلوں کا تجزیہ کیا گیا، جس کے مطابق ارجنٹینا ان ٹیموں میں دوسرے نمبر پر رہا جنہیں وی اے آر سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا کے حق میں ہر 100 فاؤلز پر وی اے آر مداخلت کی شرح 6.7 رہی، جبکہ اس کے خلاف اس مرحلے تک کوئی وی اے آر فیصلہ ریکارڈ نہیں ہوا۔اس فہرست میں میکسیکو پہلے نمبر پر رہا، جس کے حق میں وی اے آر مداخلت کی شرح 7.8 فی 100 فاؤلز رہی۔ اس کے بعد ارجنٹینا (6.7)، پرتگال (4.6)، نیوزی لینڈ (4.2) اور سعودی عرب (3.6) نمایاں رہے۔دوسری جانب کروشیا وہ ٹیم رہی جسے وی اے آر فیصلوں میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق کروشیا کے حق میں کوئی وی اے آر فیصلہ نہیں آیا، جبکہ اس کے خلاف مداخلت کی شرح 6.5 رہی۔ ایران (5.4)، قطر (5.1)، جرمنی (4.0) اور انگلینڈ (3.5) بھی ان ٹیموں میں شامل رہے جنہیں وی اے آر فیصلوں سے نسبتاً زیادہ نقصان پہنچا۔
ارجنٹینا کے خلاف جانبداری کے الزامات کی بڑی وجہ چند متنازع فیصلے بنے۔ راؤنڈ آف 16 میں مصر کے خلاف میچ کے دوران مصر کا ایک گول وی اے آر مداخلت کے بعد منسوخ کر دیا گیا، جس پر مصری ٹیم اور شائقین نے شدید اعتراض کیا۔ مصر نے ابتدائی برتری حاصل کرنے کے باوجود یہ مقابلہ 3-2 سے گنوا دیا۔اسی طرح الجزائر کے خلاف میچ میں لیونل میسی کے ایک سخت ٹیکل پر بھی بحث چھڑ گئی، جہاں متعدد مبصرین کا خیال تھا کہ انہیں سرخ کارڈ دکھایا جانا چاہیے تھا، تاہم ریفری نے کوئی کارڈ جاری نہیں کیا۔سوئٹزر لینڈ کے خلاف کوارٹر فائنل میں بریل ایمبولو کو وی اے آر مداخلت کے بعد کارڈ دیے جانے پر بھی شائقین نے فیصلے پر سوالات اٹھائے، جس سے وی اے آر کے استعمال پر جاری بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔فیفا کا مؤقف ہے کہ وی اے آر سمیت تمام فیصلے غیر جانبدارانہ انداز میں قوانین کے مطابق کیے جاتے ہیں اور کسی ٹیم کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ تاہم غیر ملکی میڈیا کے مطابق دستیاب اعداد و شمار یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ ٹورنامنٹ کے موجودہ مرحلے تک ارجنٹینا کو وی اے آر کے ذریعے دیگر ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ملا ہے، جبکہ اس کے خلاف ابھی تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ البتہ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صرف ان اعداد و شمار کی بنیاد پر جانبداری ثابت نہیں ہوتی۔