فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں اضافی وقت میں 2-1 سے شکست کے باوجود ناروے کی قومی فٹبال ٹیم کا دارالحکومت اوسلو میں تاریخی اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد مداح سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی ٹیم کو ہیروز کا درجہ دیتے ہوئے شاندار جشن منایا۔رائل پیلس کے باہر صبح سے ہی ہزاروں شائقین جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، جبکہ قومی ٹیم کی آمد پر روایتی واٹر کینن سلامی بھی پیش کی گئی۔کھلاڑیوں نے سب سے پہلے شاہ ہیرالڈ سے ملاقات کی، جس کے بعد وہ عوام سے ملاقات کے لیے محل کی سیڑھیوں پر آئے، جہاں مداحوں نے زبردست جوش و خروش کا اظہار کیا۔اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ تقریب کے آخری حصے میں شریک نہ ہو سکے، کیونکہ پرواز میں تاخیر کے باعث انہیں جلد روانہ ہونا پڑا۔ کوچ اسٹالے سولباکن کے مطابق ہالینڈ اور سینڈر برگے کو اپنی پرواز پکڑنے کے لیے تقریب ادھوری چھوڑنی پڑی۔
بعد ازاں قومی ٹیم اوپن ٹاپ بس کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے نکلی، تاہم غیرمعمولی ہجوم کے باعث کئی مقامات پر بس کی رفتار انتہائی سست رہی، جبکہ ایک مقام پر اسے پیچھے بھی ہٹانا پڑا۔سٹی ہال اسکوائر پہنچنے پر بھی ہزاروں شائقین اپنی ٹیم کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر کپتان مارٹن اوڈیگارڈ نے مداحوں کی محبت کو ناقابلِ یقین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سے لے کر ناروے تک ملنے والی حمایت ان کی تمام توقعات سے کہیں بڑھ کر رہی۔