منصوبے کے تحت لاہور کے گرد ستر لاکھ پھل دار اور شیڈ دار درخت لگانے کا ہدف تھا ،صرف اڑھائی لاکھ پودے ہی لگائے جا سکے
لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا لنگز آف لاہور منصوبہ تاحال اپنے اہداف سے بہت پیچھے ہے۔ پنجاب حکومت نے سات نومبر دو ہزار چوبیس کو اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد شہر کو سموگ اور فضائی آلودگی سے نجات دلانا تھا۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی نے دریائے راوی کے اطراف جنگلات لگانے کے لیے آٹھ سو ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی، تاہم ایک سال اور دو ماہ گزرنے کے باوجود صرف ستر ایکڑ رقبے پر ہی شجرکاری ہو سکی۔ اس طرح حکومت کے اعلان کردہ رقبے کے محض آٹھ اعشاریہ سات پانچ فیصد حصے پر درخت لگائے جا سکے۔اسی منصوبے کے تحت لاہور کے گرد ستر لاکھ سے زائد پھل دار اور شیڈ دار درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، مگر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق لنگز آف لاہور منصوبے کے تحت ابھی تک صرف اڑھائی لاکھ پودے ہی لگائے جا سکے ہیں۔ یوں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ زمین کا محض تین اعشاریہ سات پانچ فیصد حصہ ہی شجرکاری کی زد میں آ سکا۔منصوبے کے مطابق بی آر بی نہر، لاہور نہر، ہڈیارہ نالہ، ایم الیون اور ایم ٹو موٹروے سے ملحقہ زمین سمیت شہر کے گرد مختلف اہم مقامات پر شجرکاری کی جانی تھی، مگر بیشتر مقامات پر عملی کام دکھائی نہیں دیتا۔اربن یونٹ کے مطابق لاہور کا موجودہ ٹری کور صرف ایک فیصد ہے، جبکہ دنیا کے کامیاب میٹرو پولیٹن شہروں میں کم از کم ٹری کور بیس فیصد تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق مثالی ٹری کور تیس سے چالیس فیصد ہونا چاہیے۔ نیویارک میں ٹری کور ستائیس فیصد، لندن میں تینتیس فیصد، سنگاپور میں سینتالیس فیصد جبکہ نئی دہلی میں تئیس اعشاریہ چھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پارکس، درخت اور گرین بیلٹس کو شامل کرتے ہوئے کم از کم نو مربع میٹر گرین ایریا فی کس ہونا ضروری ہے، جبکہ لاہور کی آبادی تقریباً ایک کروڑ پچیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس آبادی کے تناسب سے لاہور میں کم از کم پینسٹھ ملین درخت ہونے چاہئیں، مگر شہر میں مکمل درختوں کی کل تعداد کا کوئی منظم ڈیٹا بیس ہی موجود نہیں۔اگرچہ لاہور کے کل رقبے میں بائیس فیصد حصہ گرین سپیس پر مشتمل بتایا جاتا ہے، مگر اس میں درختوں کی حقیقی تعداد نہایت کم ہے، جو شہر کے ماحولیاتی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔دوسری جانب ایم ڈی پی ایچ اے لاہور کا کہنا ہے کہ لنگز آف لاہور منصوبے کے تحت دریائے راوی کے کنارے اڑھائی لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں اور مزید اراضی دستیاب ہونے کی صورت میں شجرکاری مہم کو مزید وسعت دی جائے گی