اسرائیلی بمباری سے پہلے ہی زخموں سے چور غزہ ایک اور انسانی المیے کا شکار ہو گیا، جہاں شدید سردی اور طوفانی موسم نے مزید قیمتی جانیں نگل لیں۔
مقامی صحت حکام کے مطابق منگل کو آنے والے شدید طوفان کے دوران تباہ حال عمارتوں اور دیواروں کے گرنے سے کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں دو خواتین، ایک بچی اور ایک مرد شامل ہیں۔غزہ سٹی کے سب سے بڑے الشفا اسپتال کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دو سال سے زائد عرصے کی مسلسل اسرائیلی بمباری نے غزہ کے انفرااسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جس کے باعث عوام انتہائی خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اگرچہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم خوراک، ایندھن اور محفوظ پناہ گاہوں کی شدید قلت نے ہزاروں خاندانوں کو شدید سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک سالہ معصوم بچہ بھی رات کے وقت شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا، جو جاری انسانی بحران کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔