ایران میں امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں کے بعد ہنگامی امدادی ادارے ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں جبکہ جاری جنگ کے نتیجے میں شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق دارالحکومت تہران اور مقدس شہر قم میں فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ایرانی مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق قم میں رہائشی گھروں پر حملوں میں کم از کم 6 افراد شہید ہوئے جبکہ زخمیوں کی درست تعداد فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کا مقصد تہران کے مرکز میں ایرانی قیادت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔ عرب میڈیا کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رات بھر شدید دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی گونجتی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔دوسری جانب ارومیہ شہر میں بھی ایک رہائشی کمپلیکس پر میزائل حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چار عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور شہریوں کی شہادتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 1,937 افراد شہید جبکہ تقریباً 25 ہزار افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ شہداء میں 240 خواتین اور 212 بچے بھی شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق کراچ اور اصفہان کے صنعتی علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ادھر ناروے کی ریفیوجی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ لاکھوں ایرانی شہری شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔
اسی دوران جنگ بندی مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ایران نے مذاکرات کے لیے چند شرائط پیش کرتے ہوئے حملوں کی فوری بندش، جنگی نقصانات کے ازالے اور مستقبل میں دوبارہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے حق کا بھی اعادہ کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی صورتحال پر ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے جبکہ خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ کویت نے دو ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایرانی میزائل خطرے کے پیش نظر فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔