پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ توشہ خانہ اور سائفر کیسوں میں حکومت نے کچھ ثابت نہیں کر سکی۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 13 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ کا فیصلہ، جو بلا چھیننے سے متعلق تھا، نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ شبلی فراز نے کہا کہ 8 فروری کو عوام کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے اور فاشزم کی پالیسی اختیار کرنے کی وجہ سے نہ سیاسی استحکام آیا اور نہ ہی معیشت بہتر ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خانہ اور سائفر کیسوں میں حکومت کوئی شواہد پیش نہیں کر سکی۔ کابینہ میں بتایا گیا تھا کہ این سی اے نے معاملے کو خفیہ رکھنے کی تجویز دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس حکومت کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہ ہو، وہ کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز پر عمل درآمد نہ ہونا پارلیمنٹ کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونے پر ایوان کا استحقاق مجروح ہوا، اور پنجاب حکومت فسطائیت کی پالیسی اپناتے ہوئے پروڈکشن آرڈر کو اہمیت نہیں دی۔شبلی فراز نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ توشہ خانہ کیس، سائفر کیس اور دیگر مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور ان کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اور الزام تراشیوں کا مقصد انہیں سیاست سے باہر کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی بینچز ان مقدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں معاشی عدم استحکام اور قومی ائیرلائن کی نجکاری کے حوالے سے ایک پارٹی کا مؤقف اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔