شمالی کوریا نے ایک مرتبہ پھر میزائل تجربات کیے ہیں، جس پر جنوبی کوریا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے حکام نے ان تجربات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔جنوبی کوریا کے چیف آف اسٹاف نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات خطے میں مزید اشتعال انگیزی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان تجربات میں مختلف شارٹ رینج بیلسٹک میزائل شامل تھے جو صوبے جگانگ میں چینی سرحد کے قریب مقامی وقت کے مطابق صبح 9:30 پر فائر کیے گئے۔ میزائلوں نے تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور جاپان اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان سمندر میں جا کر گرے۔
یہ میزائل تجربات خاص طور پر نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد سے قبل ایک طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری نے بھی ان تجربات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جاپان جنوبی کوریا اور امریکا کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان تجربات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ اقدامات شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے تناظر میں کیے گئے ہیں اور اس کے عالمی سطح پر اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔