وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے درمیان ایک مختصر اور رسمی ملاقات ہوئی، جس میں قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ بھی موجود تھے۔
ملاقات کی تفصیلات
ملاقات 10 منٹ تک جاری رہی، تاہم وزیراعلیٰ نے صوبے کے سیاسی اور انتظامی معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا۔ذرائع کے مطابق، گورنر خیبرپختونخوا نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کی کوشش کی، لیکن وزیراعلیٰ نے مسکراہٹوں پر ہی اکتفا کیا اور جواب دینے سے احتراز برتا۔وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ دن قائم مقام چیف جسٹس کی حلف برداری کا دن ہے، اس لیے دیگر معاملات پر بعد میں گفتگو ہوگی۔
سیاسی تناظر
یہ ملاقات سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی اکثر صوبائی حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا گورنر ہاؤس جانا سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا مؤقف
خیبرپختونخوا حکومت کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کا مقصد سیاسی ملاقات کرنا نہیں تھا بلکہ وہ قائم مقام چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے وہاں موجود تھے۔
گورنر کے ساتھ ہونے والی نشست رسمی اور پروٹوکول کا حصہ تھی، جس میں سیاسی یا انتظامی معاملات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
آگے کیا ہوگا؟
اس ملاقات کو سیاسی ماحول میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کی آئندہ ملاقاتوں یا بیانات سے واضح ہوگا کہ مستقبل میں صوبے کی سیاست کس سمت جاتی ہے۔