دالیں،بیسن، چاول، دودھ،دہی،گھی کے نرخ بڑھنے سے عوام پر بوجھ بڑھ گیا
لاہور(خصوصی رپورٹ)موجودہ حکومت کے دوسال میں بنیادی اشیائے خورونوش کے نرخوں میں اضافے کا رجحان، بیسن، گھی، چاول ،دالوں کی قیمتوں میں اضافہ، آٹے کے نرخوں میں کمی، مجموعی طور پر مہنگائیسیگھر یلوبجٹ بری طرح متاثر ہورہاہے۔دو سال میں دالیں، چاول دودھ ، دہی سمیت بنیادی اشیا مہنگی ہونے سیعوام پر بوجھ بڑھ گیا۔باسمتی چاول290 سے بڑھ کر 350 ،دال چنا 250 سے290، دال مونگ280 سے 390 ،کالے چنے 240 سے 270 ،بیسن 240 سے270 ، دودھ 160سے200 ،دہی 180 سے 240روپے کلوہوگیا،گھی کی قیمتوں میں بھیاضافہ، درجہ اول 520 سے بڑھ کر 590 درجہ دوم490 سے 560 چینی 135 سے بڑھ کر 150 روپے کلو جبکہ سفید چنے کی قیمت میں کمی، 310 سے کم ہو کر 280 ،دال مسور 300 سے کم ہو کر 270 اوردال ماش510 سے کم ہو کر 480 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں بڑا ریلیف، 20 کلو تھیلا 2500کا تھا لیکن پنجاب حکومت نے اسکی قیمت کم کرکے 1810 روپے مقرر کردی ہے۔پریشان حال شہریوں کا کہناہے کہبڑھتی مہنگائی کی لہرسے ہرشے کی قیمت بڑھ چکی ہے جس سے گھریلوبجٹ متاثر ہورہاہے