قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کی ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے فلسطین کے حوالے سے پالیسی اور ملکی رویوں پر سخت اور جذباتی خطاب کیا۔
اہم نکات:
دعاؤں کی قبولیت پر تنقید:
قادر پٹیل نے کہا کہ: "اسی لاکھ یہودی ہیں، اتنے تو ہمارے پاس مولوی ہیں، لیکن دعائیں قبول نہیں ہورہیں۔ کیا ہم اب بھی ابابیلوں کے انتظار میں ہیں؟ اگر ابابیلیں آ بھی گئی ہیں تو وہ ہمیں ہی ماریں گی۔"اس کا مقصد مذہبی طبقے پر طنز تھا کہ صرف دعاؤں یا بددعاؤں سے اسرائیل جیسی طاقتور ریاستوں کے خلاف کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔
اسما حدید کی تقریر پر تنقید:
انہوں نے کہا کہ ایک جماعت کی رکن، اسما حدید، نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں تقریر کی اور پارٹی نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک پالیسی پوزیشن تھی۔
یہودی شخص کی حمایت پر اعتراض:
انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک جماعت نے ایک "یہودی" فرد کے حق میں مہم چلائی، اور اس بات پر سوال اٹھایا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ:
انہوں نے یاد دلایا کہ بھٹو شہید نے کہا تھا کہ "نیند میں بھی کشمیر اور فلسطین پر دھوکہ نہیں کھا سکتے۔"بھٹو کی پھانسی کو اسلامی دنیا کی بے عملی اور او آئی سی کی غیر مؤثر حکمت عملی سے جوڑا۔
پی ٹی آئی پر تنقید:
قادر پٹیل نے پی ٹی آئی کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے قومی سلامتی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر بات کرنے کی ہمت نہیں تھی تو بائیکاٹ کا سہارا لیا گیا۔
کینالز کے مسئلے پر اختلاف:
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے کینالز (نہروں) کے مسئلے پر قرارداد پیش کی تو حکومتی ارکان نے شور شرابا کیا اور ان کی بات سنی نہیں گئی، حالانکہ یہ فورم منظوری دینے والا ادارہ ہی نہیں۔