اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ گزشتہ 35 برسوں تک جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے کراچی پر راج کیا اور شہر کو موجودہ بدترین صورتحال تک پہنچانے کی ذمہ داری انہی دو جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے کراچی کے مختلف سانحات میں متاثرین کو مکمل مالی معاونت فراہم کی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور سابق اسپیکر کی تقاریر کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ"ہم گزشتہ 10 برسوں سے یہی بات کرتے آ رہے ہیں لیکن اس کے جواب میں ہمیں چور کہا گیا۔"انہوں نے سانحہ گل پلازہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور کئی ارب پتی لوگ لمحوں میں سڑکوں پر آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پہلے 10 سال جماعت اسلامی نے حکومت کی اور پھر 10 سال وہ جماعت برسر اقتدار رہی جس کے ارکان آج ایوان میں حیرانگی کے ساتھ تقاریر کر رہے ہیں، اس کے بعد دوبارہ جماعت اسلامی اقتدار میں آئی۔عبدالقادر پٹیل نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ"جماعت اسلامی صدقہ، فطرانہ، چندہ اور کھالیں بھی جمع کرتی ہے اور پھر وہی پیسہ کراچی میں بینرز لگانے پر خرچ کر دیتی ہے۔ 35 سال تک دو جماعتوں نے کراچی پر حکومت کر کے شہر کو اس حال تک پہنچایا۔"
انہوں نے کراچی کے سب سے بڑے آتشزدگی کے واقعے سانحہ بلدیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں 360 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، مگر آج اس کا ذکر کرنا بھی بعض لوگ مناسب نہیں سمجھتے۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ٹمبر مارکیٹ میں آتشزدگی کے بعد حکومت سندھ نے متاثرین کی مکمل مالی معاونت کی، جبکہ گل پلازہ کے وقت نہ تو میئر پیپلز پارٹی کا تھا اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی سربراہی پارٹی کے پاس تھی۔انہوں نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا نام لیے بغیر کہا کہ"ان کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو حصوں میں تقسیم کیا، گزرنے کا راستہ نہیں چھوڑا اور عمارت کی غیر قانونی منزلیں بڑھا دی گئیں۔ یہ پلازہ اسی دور کی نشانی ہے جو آج آئینہ دکھا رہا ہے۔"عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ"ملبے تلے دبے افراد کی روحیں بددعائیں دیتی رہیں گی۔ چائنا کٹنگ کہاں سے آئی؟ پارک اور گراؤنڈ کس نے ختم کیے؟ اور ناجائز پلاٹنگ کس نے کی؟ یہ سب سوالات آج بھی جواب مانگتے ہیں۔"