قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کے اجلاس میں رکن وسیم قادر نے پنجاب کی حکومت اور اس کے بیوروکریسی کے نظام پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس کے افسران، جن میں آئی جی، آر پی او، ڈی پی او سمیت ایس ایچ او بھی شامل ہیں، ارکان پارلیمنٹ کی بات تک نہیں سنتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی پنجاب میں اتنی بااختیار ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جب کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی ارکان پارلیمنٹ کی بات عزت سے سنتی ہے۔اجلاس کی صدارت محمد افضل نے کی، اور اس دوران مسلم لیگ ن کے رکن رضا حیات ہراج نے مسلم لیگ ن کے رکن سید سمیع الحسن گیلانی پر الزام عائد کیا کہ وہ زمینوں پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رضا حیات ہراج نے کہا کہ کچھ ارکان پارلیمنٹ کا استحقاق یہ نہیں ہوتا کہ وہ زمینوں پر قبضے کرائیں، اور ان کے مطابق یہ قبضے سیکڑوں ایکڑ اراضی پر کیے جا رہے ہیں۔
ملک عامر ڈوگر نے بھی اجلاس میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو بلا کر دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ زمینوں پر قبضے کی کوششیں کی جائیں، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا کمیٹی کے کسی رکن کو زمینوں پر قبضے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔یہ اجلاس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پنجاب میں سیاسی سطح پر پولیس اور بیوروکریسی کے کردار پر تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے، جہاں ارکان پارلیمنٹ کو بیوروکریسی سے مناسب تعاون نہ ملنے اور زمینوں پر قبضے کے معاملات کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔