اسلام آباد کے پمز اسپتال اور ملک کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں جاری مسائل اور ان کی انتظامی و حفاظتی صورتحال سے متعلق ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحہ اور دیگر مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسپتال نہیں چلانے چاہییں، کیونکہ یہاں نظام بہت خراب ہے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے بددعاؤں کے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز اسپتال پر مریضوں کا بہت زیادہ بوجھ ہے اور یہاں صحت کے نظام کا کوئی موثر انسپیکشن یا معائنہ نہیں ہوتا۔
ایک افسوسناک واقعہ میں 6 جولائی کو نرسز کے ہاسٹل میں آگ لگی تھی، مگر ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اس کا بروقت نوٹس نہیں لیا اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی۔
انکشاف ہوا کہ پمز اسپتال میں ہیلتھ کیئر اتھارٹی کا کوئی وزٹ نہیں ہوا اور انفارمیشن سسٹمز بھی فعال نہیں۔
آگ لگنے کے واقعے کے بعد پائپ لائن اور فائر مینجمنٹ سسٹمز کی کمی اور خرابیاں سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ، اے سی سے چنگاری گرنے کا انکشاف بھی ہوا۔
کمیٹی نے یہ بھی دیکھا کہ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا اپنا میڈیکل ہاسپٹل اور کالج ہے، جس سے مفادات کا ٹکراؤ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ روبینہ خالد نے اس ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اور پمز کو ایک جاگیر بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو سرکاری اسپتال چلانے سے بہتر ہے کہ وہ اسے بند ہی کر دیں۔
انہوں نے ملک میں ہیلتھ بجٹ، ریسرچ اور یونیورسل ہیلتھ سسٹم کے فروغ کی بھی بات کی، اور بتایا کہ زیادہ اسپتال بنا کر مریضوں کو بہتر علاج فراہم کیا جا سکتا ہے۔انکوائری کمیٹی کا بھی ذکر کیا گیا جس کے پاس اس واقعہ کا سب سے زیادہ علم ہے، اور ان افسران سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔کمیٹی نے دیگر اداروں سے بھی تفصیلات طلب کیں اور میڈیا و عوام سے تجاویز شیئر کرنے کی ہدایت دی۔مجموعی طور پر یہ خبر صحت کے نظام میں موجود خامیوں، انتظامی مسائل اور حفاظتی انتظامات کی کمی کو اجاگر کرتی ہے، اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔