پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی) میں پیش آیا، جہاں سیفٹی اقدامات کی مبینہ کمی کے باعث کرنٹ لگنے سے نو افراد جاں بحق ہو گئے۔
ان میں ایک الیکٹریشن اور آٹھ دیگر ملازمین شامل تھے۔ یہ واقعہ نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) کی توجہ کا مرکز بنا، جس نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔
نیپرا کی کارروائی کی تفصیل:
تحقیقات کا آغاز: نیپرا نے واقعے کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے جائے حادثات کا دورہ کیا اور سیفٹی پروٹوکولز کی جانچ کی۔
نتائج: تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ لیسکو کی جانب سے مطلوبہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ افسوسناک اموات ہوئیں۔
لیسکو کا جواب: لیسکو نے نیپرا کو اپنا جواب جمع کروایا، مگر نیپرا نے اسے ناکافی اور غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
جرمانہ: نیپرا نے کمپنی پر دو کروڑ تیس لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے، جسے پندرہ دن کے اندر اندر ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پس منظر:
یہ کیس پاکستان میں بجلی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ یہ ملازمین کی فلاح و بہبود پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔