نیپال کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم نے پارلیمنٹ تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر دیا

نیپال کی پہلی خاتون عبوری وزیراعظم نے پارلیمنٹ تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر دیا

نیپال کی عبوری وزیراعظم سشیلا کارکی نے عہدہ سنبھالتے ہی بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ تحلیل کر دی اور آئندہ عام انتخابات کی تاریخ مقرر کر دی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم نے گزشتہ روز حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا کہ نیپال میں نئے عام انتخابات 5 مارچ 2026 کو منعقد ہوں گے۔ صدارتی دفتر کے جاری کردہ بیان میں بھی پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئی انتخابی تاریخ کی تصدیق کی گئی۔ملک میں حالیہ سیاسی بحران اور بدامنی کے بعد دارالحکومت کھٹمنڈو میں فوج تعینات ہے اور فوج نے صورتحال پر کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ اگرچہ کشیدگی کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم کئی سڑکیں تاحال بند ہیں اور شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ ہے۔

رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، جس میں 51 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں 21 مظاہرین، 9 قیدی، 3 پولیس افسران اور 18 دیگر افراد شامل تھے۔ مظاہرین نے سابق وزرائے اعظم، کابینہ ارکان، پارلیمنٹ اور عدالتوں کی عمارتوں کو نذرِ آتش بھی کیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت کے فیصلے کے بعد سیاسی منظرنامہ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور 2026 کے انتخابات نیپال کے مستقبل کا اہم موڑ ثابت ہوں گے۔