ہسپتال کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس: شرجیل میمن سمیت تمام ملزمان بری قرار

ہسپتال کے کمرے سے شراب برآمدگی کیس: شرجیل میمن سمیت تمام ملزمان بری قرار

 کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ضیاء الدین اسپتال کے کمرے سے شراب برآمدگی کے 8 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت تمام ملزمان کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ پولیس اور استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے اور ان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔مقدمے میں شرجیل انعام میمن کے علاوہ مشتاق، شکر دین، محمد جان، حبیب اللہ اور نسیم شجاع بھی نامزد تھے۔ عدالت نے شواہد کی عدم موجودگی کے باعث تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔

بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل ہونے کا مؤقف
شرجیل میمن کی وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فرانزک اور میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ برآمد ہونے والی بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل موجود تھا۔دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے اس مؤقف کے بعد مقدمے میں شواہد کی اہمیت نمایاں رہی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس اور استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔آٹھ سال سے زیرِ سماعت اس مقدمے کے فیصلے کے ساتھ شرجیل انعام میمن اور دیگر نامزد ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔